ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 427 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 427

ایسے خواص رکھے ہیں کہ انسان اُن سے کام لیتا ہے اور اُن کی تکمیل کرسکتا ہے اس لیے کہ قوتوں کی تکمیل کا سامان ساتھ ہی پیدا کر دیا ہے۔یہ تو اندرونی نظام کا حال ہے کہ ہر ایک قوت اُس منشا اور مفاد سے پوری مناسبت رکھتی ہے جس میں انسان کی فلاح ہے اور بیرونی طور پر بھی ایسا ہی انتظام رکھا ہے کہ ہر شخص جس قسم کا حرفہ رکھتا ہے اس کے مناسب حال ادوات و آلات قبل از وجود مہیا کر رکھے ہیں۔مثلاً اگر کوئی جوتا بنانے والا ہے تو اس کو چمڑا اور دھاگہ نہ ملے تو وہ کہاں سے لائے اور کیوں کر اپنے حرفہ کی تکمیل کرے؟ اسی طرح درزی کو اگر کپڑا نہ ملے تو کیوں کر سیئے؟ اسی طرح ہر متنفس کا حال ہے۔طبیب کیسا ہی حاذق اور عالم ہو لیکن اگر ادویہ نہ ہوں تو وہ کیا کر سکتا ہے؟بڑی سوچ اور فکر سے ایک نسخہ لکھ کر دے گا لیکن بازار میں دوا نہ ملے تو کیا کرے گا؟ کس قدر فضل ہے کہ ایک طرف علم دیا ہے اور دوسری طرف نباتات، جمادات، حیوانات جو مریضوں کے مناسب حال تھے پیدا کر دیئے ہیں اور ان میں قسم قسم کے خواص رکھے ہیں جو ہر زمانہ میں نااندیشیدہ ضروریات کے کام آسکتے ہیں۔غرض خدا تعالیٰ نے کوئی چیز بھی غیر مفید پیدا نہیں کی اور جس کے خواص محدود ہوں یہاں تک کہ پسو اور جوں تک بھی غیر مفید نہیں۔لکھا ہے کہ اگر کسی کا پیشاب بند ہو تو بعض وقت جوں کو احلیل میں دینے سے پیشاب جاری ہو جاتا ہے۔انسان ان اشیاء کی مدد سے کہاں تک فائدہ اٹھاتا ہے۔کوئی تصور کر سکتا ہے؟ پھر چوتھی بات پاداش محنت ہے۔اس کے لئے بھی خدا کا فضل درکار ہے۔مثلاً انسان کس قدر محنت و مشقت سے زراعت کرتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی مدد اس کے ساتھ نہ ہو تو کیوں کر اپنے گھر میں غلّہ لا سکے۔اسی کے فضل و کرم سے اپنے وقت پر ہر ایک چیز ہوتی ہے چنانچہ اب قریب تھا کہ اس خشک سالی میں لوگ ہلاک ہو جاتے مگر خدا نے اپنے فضل سے بارش کردی اور بہت سے حصۂ مخلوق کو سنبھال لیا۔غرض اوّلًا و بالذّات اکمل اور اعلیٰ مستحق تعریف کا خدا تعالیٰ ہے۔اس کے مقابلہ میں کسی دوسرے کا ذاتی طور پر کوئی بھی استحقاق نہیں۔سُورۃ النّاس میں تین حقوق کا بیان اگر کسی دوسرے کو استحقاق تعریف کا ہے تو صرف طفیلی طور پر ہے۔یہ بھی خدا تعالیٰ کا رحم ہے کہ