ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 34

والوں کی پرورش کرنے کے طریق سکھلائے ایک جاہل، عالم اور فلسفی کی پرورش کے راستہ ہر طبقے کے سوالات کا جواب غرض کہ کوئی فرقہ نہ چھوڑا جس کی اصلاح کے طریق نہ بتائے۔یہ ایک دقیقۂ وقت تھا۔جیسے کہ فرمایا فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (البینۃ :۴) یعنی یہ وہ صحیفے ہیں جن میں کل سچائیاں ہیں۔سو یہ کیسی کتاب مبارک ہے کہ اس میں سب سامان اعلیٰ درجہ تک پہنچنے کے موجود ہیں۔مسیح و مہدی لیکن افسوس ہے جیسے کہ حدیث میں آیا ایک درمیانی زمانہ آوے گا جو فَیْج اَعْوَج ہے۔یعنی حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا کہ ایک میرا زمانہ برکت والا ہے ایک آنے والے مسیح و مہدی کا۔مسیح و مہدی کوئی دو الگ اشخاص نہیں۔ان سے مراد ایک ہی ہے۔مہدی ہدایت یافتہ سے مراد ہے۔کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مسیح مہدی نہیں۔مہدی مسیح ہو یا نہ ہو لیکن مسیح کے مہدی ہونے سے انکار کرنا مسلمان کا کام نہیں۔اصل میں اللہ تعالیٰ نے یہ دو الفاظ سب و شتم کے مقابل بطور ذب کے رکھے ہیں کہ وہ کافر، ضَالّ، مُضِلّ نہیں بلکہ مہدی ہے چونکہ اس کے علم میں تھا کہ آنے والے مسیح و مہدی کو دجال و گمراہ کہا جائے گا اس لئے اسے مسیح و مہدی کہا گیا۔دجال کا تعلق اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ (الاعراف:۱۷۷) سے تھا اور مسیح کو رفع آسمانی ہونا تھا۔سو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا تھا اس کی تکمیل دو ہی زمانوں میں ہونی تھی۔ایک آپؐ کا زمانہ اور ایک آخری مسیح و مہدی کا زمانہ۔یعنی ایک زمانہ میں تو قرآن اور سچی تعلیم نازل ہوئی لیکن اس تعلیم پر فَیْج اَعْوَج کے زمانہ نے پردہ ڈال دیا جس پردہ کا اٹھایا جانا مسیح کے زمانہ میں مقدر تھا۔جیسے کہ فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تو موجودہ جماعت یعنی جماعت صحابہ کرامؓ کا تزکیہ کیا اور ایک آنے والی جماعت کا جس کی شان میں لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ (الجمعۃ:۴) آیا ہے۔سو یہ ظاہر ہے کہ خدا نے بشارت دی کہ ضلالت کے وقت اللہ تعالیٰ اس دین کو ضائع نہ کرے گا بلکہ آنے والے زمانہ میں خدا حقائق قرآنیہ کو کھول دے گا۔آثار میں ہے کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ فضیلت ہوگی کہ وہ قرآنی فہم اور معارف کا صاحب ہوگا اور صرف قرآن سے استنباط کرکے لوگوں کو ان غلطیوں سے متنبہ کرے گا جو حقائق قرآن کی ناواقفیت سے لوگوں میں پیدا ہوگئی ہوں۔