ملفوظات (جلد 1) — Page 405
عورت اور مرد کے حقوق مساوی ہیں ان کو پردہ میں نہ رکھا جاوے۔یہ ظلم ہے۔اسلامی پردہ اسلامی پردہ پر اعتراض کرنا اُن کی جہالت ہے اللہ تعالیٰ نے پردہ کا ایسا حکم دیا ہی نہیں جس پر اعتراض وارد ہو۔قرآن مسلمان مردوں اور عورتوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ غضِّ بصر کریں۔جب ایک دوسرے کو دیکھیں ہی گے نہیں تو محفوظ رہیں گے۔یہ نہیں کہ انجیل کی طرح یہ حکم دے دیتا کہ شہوت کی نظر سے نہ دیکھ۔افسوس کی بات ہے کہ انجیل کے مصنف کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ شہوت کی نظر کیا؟ نظر ہی تو ایک ایسی چیز ہے جو شہوت انگیز خیالات کو پیدا کرتی ہے۔اس تعلیم کا جو نتیجہ ہوا ہے وہ اُن لوگوں سے مخفی نہیں ہے جو اخبارات پڑھتے ہیں اُن کو معلوم ہوگا کہ لندن کے پارکوں اور پیرس کے ہوٹلوں کے کیسے شرمناک نظارے بیان کیے جاتے ہیں۔اسلامی پردہ سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ عورت جیل خانہ کی طرح بند رکھی جاوے۔قرآن شریف کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں ستر کریں۔وہ غیر مرد کو نہ دیکھیں۔جن عورتوں کو باہر جانے کی ضرورت تمدنی اُمور کے لیے پڑے اُن کو گھر سے باہر نکلنا منع نہیں ہے وہ بے شک جائیں لیکن نظر کا پردہ ضروری ہے۔مساوات کے لیے عورتوں کے نیکی کرنے میں کوئی تفریق نہیں رکھی گئی ہے اور نہ اُن کو منع کیا گیا ہے کہ وہ نیکی میں مشابہت نہ کریں۔اسلام نے یہ کب بتایا ہے کہ زنجیر ڈال کر رکھو۔اسلام شہوات کی بنا کو کاٹتا ہے۔یورپ کو دیکھو کیا ہو رہا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ کتوں اور کتیوں کی طرح زنا ہوتا ہے اور شراب کی اس قدر کثرت ہے کہ تین میل تک شراب کی دکانیں چلی گئی ہیں۔یہ کس تعلیم کا نتیجہ ہے؟ کیا پردہ داری کا یا پردہ دری کا؟ اسلام کی بات کو بگاڑنا اور اندھا دُھند اعتراض کرنا ظلم ہے۔اسلام تقویٰ سکھانے کے واسطے دنیا میں آیا ہے۔میں یہ بیان کر رہا تھا کہ لوگ مُلوک کے دین پر ہوتے ہیں اور میں نے مختلف مثالوں کے ذریعہ اس اَمر کو بیان کر دیا ہے۔اب دیکھ لو کہ جو حالات اَبتر اس ملک میں ہوتے ہیں وہ کسی اَور ملک میں نہیں ہیں یہاں تک کہ مکہ مدینہ میں بھی نہیں ہوئے۔ایسی آزادی اور اباحت جو یہاں ہے اس کی نظیر کسی دوسرے ملک میں نہ ملے گی اور ان ملکوں میں چونکہ اس قسم کے محرکات پیش نہیں آئے اس لیے