ملفوظات (جلد 1) — Page 404
طریق ترقی نہ پکڑے مگر نہیں یہ ایک دریا ہے جو بہتا چلاجاتا ہے اور رُک نہیں سکتا۔انگریزی تعلیم کے ساتھ ساتھ انگریزی طرز لباس ترقی پر ہے۔یہاں تک کہ حجامت بنوانے میں بھی انگریزی طرز اور فیشن کو مقدم سمجھا جاتا ہے۔یہ کیوں؟ صرف اس لیے کہ اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ۔یہ مت سمجھو کہ طرز لباس ہی نے ترقی کی ہے۔نہیں یہ طرز بجائے خودایک خطرناک ترغیب ہے اَور بہت سی باتوں کے لیے۔انگریزی لباس کے بعد انگریزی طرز کی مجلسوں کا مذاق ترقی کرے گا اور کر رہا ہے۔عیسائیت نے خَـمْر کو حرام نہیں کیا۔اس میں پردہ بھی ضروری نہیں۔قماربازی بھی ممنوع نہیں ہے۔پھر کھانے میں حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں۔پس اس آزادی کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب حقیقی جو انسان کو ایک حد بندی کے درمیان رکھنا چاہتا ہے اس سے لوگوں نے تجاوز شروع کیا۔انگریزی مجلسی مذاق میں شراب کا پینا لازمی اَمر ہے۔جس محفل میں شراب نہ ہو وہ گویا مجلس ہی قابل نفرت ہے۔پس وہ لوگ جو انگریزی طرز اور فیشن کے دلدادہ ہیں وہ کب دین کی حدود کے اندر آنے لگے؟ اور مذہب کی طرف بُلانے والوں کی طرف اُن کو رغبت ہو تو کس طرح؟ میں سچ کہتا ہوں کہ لوگوں نے اس اَمر پر غور نہیں کی ہے کہ عیسائیت کیوں کر اندر ہی اندر سرایت کر رہی ہے۔میں نے اس پر بہت غور کی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہر ایک اس وقت عیسائیت کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔خصوصاً ایسی حالت میں کہ ان پادریوں نے اپنی طرف سے کوئی دقیقہ بھی اُس کے پھیلانے میں فروگزاشت نہیں کیا۔ہر قسم کے طریق اشاعت کو اُنھوں نے اختیار کیا ہے۔قطع نظر اس کے کہ وہ جائز ہے یا ناجائز۔یہ انگریزی فیشن ہی کا اثر ہے کہ اب علانیہ شراب پی جاتی ہے۔زناکاری کے لیے کوئی اَمر مانع نہیں ہے بلکہ اس کے ممد اور معاون امور پیدا ہوتے جاتے ہیں۔قمار بازی گو قانوناً جرم ہو مگر اُس کی بعض ایسی صورتیں پیدا کرلی گئی ہیں کہ وہ قانوناً جائز ہی قرار دی گئی ہیں۔عیسائی عورتوں کا بے پردہ پھرنا اور عام طور پر غیرمردوں سے ملنا جلنا اس نے ایسا خطرناک اثر کیا ہے کہ بہت سے لوگ ہیں جو عورتوں کو بے پردہ سیر کرانا پسند کرتے ہیں اور مسلمانوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ