ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 403 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 403

یاجُوج و ماجُوج ایسا ہی یاجوج۔یہ لفظ اجیج سے مشتق ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آتشی کاموں کے ساتھ اُن کا بہت بڑا تعلق ہوگا اور وہ آگ سے کام لینے میں بہت مہارت رکھیں گے۔گویا آگ اُن کے قابو میں ہوگی اور دوسرے لوگ اس آتشی مقابلہ میں ان سے عاجز رہ جائیں گے۔اب یہ کیسی صاف بات ہے۔دیکھ لو کہ آگ کے ساتھ اس قوم کو کس قدر تعلق ہے۔کَلیں کس قدر جاری ہیں اور دن بدن آگ سے کام لینے میں ترقی کر رہے ہیں۔یہ دونوں بروز ہیں اور یہ دونوں کیفیتیں جو متفرق طور پر تھیں ایک میں آئی ہیں۔ایسا ہی ماجوج میں اور یہ ایک پکی بات ہے کہ اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ۔انسان پر ملوک کا بہت بڑا اثر پڑتا ہے۔ملوک تو ملوک ہوتے ہیں۔ادنیٰ درجہ کے نمبرداروں تک کا اثر پڑتا ہے۔سکھوں کے زمانہ میں بہت سے لوگوں نے کیس رکھ لیے تھے اور کَچھ پہن لیے تھے۔ایک شخص ہمارے قریب ایک گاؤں میں بھی رہتا تھا۔اس کا نام خدا بخش تھا۔اس نے اپنا نام خدا سنگھ رکھ لیا تھا۔موضع ڈلّہ میں گلاب شاہ اور مہتاب شاہ دو بھائی تھے۔وہ گرنتھ ہی پڑھا کرتے تھے اور یہ معمولی بات ہے ملوک کے خیالات کا مذہب، طرز لباس وغیرہ ہر قسم کے اُمور کا اخلاقی ہوں یا مذہبی بہت بڑا اثر رعایا پر پڑتا ہے۔جیسے ذکور کا اثر اِنَاث پر پڑتا ہے۔اس لیے فرمایا گیا ہے اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ (النّسآء:۳۵) اسی طرح پر رعایا پر ملوک کا اثر ضروری ہے۔سکھوں کی عملداری میں وہ پگڑیاں باندھا کرتے تھے اور اب تک بھی ریاستوں میں اس کا بقیہ چلا جاتا ہے اور جب ایک دوسرے سے ملا کرتے تھے تو سب ایک ہی لفظ بولا کرتے تھے۔’’سکھ ہے‘‘ ایسا ہی اب اس عملداری میں سلطنت کا اثر رعایا پر پڑا ہے۔طرزلباس ہی کو دیکھو کہ ہر ایک شخص انگریزی لباس کوٹ پتلون کو پہن کر فخر کرتا ہے اور بعض ایسے بھی ہیں جو انگریزی ٹوپیاں بھی پہنتے ہیں۔سلطنت کی طرف سے کسی قسم کی ترغیب نہیں دی جاتی، کوئی حکم جاری نہیں کیا جاتا کہ لوگ اس قسم کا پہنیں مگر خود بخود طبائع میں ایک شوق دن بدن بڑھتا چلا جاتا ہے۔باوجودیکہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جواس لباس کی تبدیلی کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور اپنی جگہ سعی بھی کرتے ہیں کہ یہ