ملفوظات (جلد 1) — Page 402
مہدی کہلائے گا۔اسی بشارت کی طرف وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ (الجمعۃ:۴) میں بھی اشارہ ہے۔جبکہ یہ دونوں فتنے ہوں گے۔ان فتنوں کی بنیاد دو خبیث چیزوں پر ہوگی۔ایک فرقہ ہوگا جو اَلدَّجَّال کہلائے گا اور ایک اَلْـجَاجُوْج۔دجال اَلدَّجَّال۔دجل یہ ہے کہ اندر ناقص چیز ہو اور اوپر کوئی صاف چیز ہو۔مثلاً اوپر سونے کا ملمع ہو اور اندر تانبہ ہو۔یہ دجل ابتدائے دنیا سے چلا آتا ہے۔مکر و فریب سے کوئی زمانہ خالی نہیں رہا۔زرگر کیا کرتے ہیں۔جیسے دنیا کے کاموں میں دجل ہے ویسے ہی روحانی کاموں میں بھی دجل ہوتا ہے يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ (النّسآء:۴۷) بھی دجل ہی ہے۔جو يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ (اٰل عـمران:۵۶) کو الٹاتے ہیں یہ بھی دجل ہے۔مگر آخری زمانہ کا دجل عظیم الشان دجل ہوگا۔گویا دجّالیت کا ایک دریا بہہ نکلے گا۔اَلدَّجَّال پر ال استغراق کا ہے۔پس اَلدَّجَّال دجا جلہ مختلفہ کا بروز ہے یعنی پہلے جس قدر مختلف اور متفرق کید، حیلے، ضلالت اور کفر کے تھے۔کسی زمانہ میں نابکار لوگوں نے کچھ کہا۔کسی نے کچھ کہا۔متفرق طور پر جس قدر اعتراضات اسلام پر کئے جاتے تھے مگر وہ ایک حد تک تھے لیکن اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ اس وقت اعتراضات کا ایک دریا بہہ نکلے گا۔جیسے چھوٹی چھوٹی نہریں اور ندیاں مل کر ایک دریا بن جاتا ہے اسی طرح کل دجل مل کر ایک بڑا دجل ہوگا۔چنانچہ اس زمانہ میں دیکھ لو کہ کتنا بڑا دجل ہو رہا ہے۔ہر طرف سے اسلام پر نکتہ چینیاں اور اعتراض کیے جاتے ہیں۔اور عیسائیوں نے تو حد کر دی ہے۔میں نے ان اعتراضوں کو جمع کیا ہے جو عیسائیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے ہیں۔اُن کی تعداد تین ہزار تک پہنچی ہے اور جس قدر کتابیں اور رسالے اور اشتہار آئے دن ان لوگوں کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراضوں کی شکل میں شائع ہوتے ہیں اُن کی تعداد چھ کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔گویا ہندوستان کے مسلمانوں میں سے ہر ایک آدمی کے ہاتھ میں یہ لوگ کتاب دے سکتے ہیں۔پس سب سے بڑا فتنہ یہی نصاریٰ کا فتنہ ہے اور اَلدَّجَّال کا بُروز ہے۔