ملفوظات (جلد 1) — Page 401
یہی مستنبط ہوتا ہے۔صوفیائے کرام اس کو مانتے ہیں کہ کسی گزرے ہوئے انسان کی طبیعت، خو، اخلاق ایک اَور میں آتے ہیں۔ان کی اصطلاح میں یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص قدم آدم پر ہے یا قدم نوح پر ہے۔اس کو بعض بروز بھی بولتے ہیں۔ان کا مذہب یہ ہے کہ ہر زمانے کے لئے بروز ہے۔جیسے ہابیل کا بروز شیث علیہ السلام تھے اور یہ پہلا بروز تھا۔ہبل نوحہ کو کہتے ہیں۔خدا نے شیثؑ کو یہ بروز دیا۔پھر یہ سلسلہ برابر چلا گیا یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بروز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔اسی لئے عَلٰى مِلَّةِ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا فرمایا۔اس میں یہی سِرّ ہے۔دو اڑھائی ہزار سال کے بعد عبد اللہ کے گھر میں ظاہر ہوا۔غرض بروز کا مذہب ایک متفق علیہ مسئلہ ظہورات کا ہے۔آخری زمانہ کے دو (۲) فتنے اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانے کے واسطے خبر دی تھی کہ اس وقت دو رنگ کے فتنے ہوں گے۔ایک اندرونی دوسرا بیرونی۔اندرونی فتنہ یہ ہوگا کہ سچی ہدایت پر قائم نہ رہیں گے اور شیطانی عمل دخل کے نیچے آجائیں گے۔قمار بازی، زنا کاری، شراب خوری اور ہر قسم کے فسق وفجور میں مبتلا ہو کر حدود اللہ سے نکل جائیں گے اور خدا تعالیٰ کی نواہی کی پروا نہ کریں گے۔صوم و صلوٰۃ کو ترک کردیں گے اور اَمرِالٰہی کی بے حرمتی کی جائے گی اور قرآنی احکام کے ساتھ ہنسی ٹھٹھا کیا جائے گا۔بیرونی فتنہ یہ ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر افترا کئے جائیں گے اور ہر قسم کے دل آزار حملوں سے اسلام کی توہین اور تخریب کی کوشش کی جاوے گی۔مسیحؑ کی خدائی کو منوانے کے لئے اور اس کی صلیبی لعنت پر ایمان لانے کے واسطے ہر قسم کے حیلے اور تدابیر عمل میں لائی جاویں گی۔غرض ان دونوں اندرونی اور بیرونی عظیم الشان فتنوں کی اطلاع کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ ہی یہ بشارت ملی کہ ایک شخص آپ کی اُمت میں سے مبعوث کیا جاوے گا جو بیرونی فتنہ اور صلیبی مذہب کی حقیقت کو کھول کر دکھا دینے اور صلیب کو توڑ دینے والا ہوگا اور اسی لحاظ سے وہ مسیح ابن مریم ہوگا اور اندرونی تفرقوں اور بے راہیوں کو دور کرکے ہدایت کی سچی راہ پر قائم کرے گا اس لئے