ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 400

عداوت نے ان کی یہاں تک نوبت پہنچائی ہے کہ صحابہ ؓ کی کل جماعت پر انھوں نے اپنے طریقِ عمل سے کفر کا فتویٰ دے دیا اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کے استدلال کو استخفاف کی نظر سے دیکھا۔وفاتِ مسیحؑ پر اجماع سارا قرآن شریف ہمارے ساتھ ہے۔تیس (۳۰) آیات مخصوصاً مسیح علیہ السلام کی وفات پر گواہ ہیں۔معراج کی رات، ابو بکر صدیقؓ کی تقریر اور صحابہؓ کا اجماع شاہد ہے۔یہ لوگ جو ہمارے مخالف ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے اجماع کے خلاف ایک بات کہی یہ جھوٹ بولتے ہیں۔اجماع ان کے ساتھ ہرگز نہیں ہے۔اوّل تو اجماع صحابہؓ ہی تک ہے اور ہم نے ابھی بتایا ہے کہ صحابہؓ کا اجماع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر مسیح کی وفات پر ہو چکا ہے۔امام احمد حنبلؒ کہتے ہیں کہ صحابہ ؓ کے بعد اجماع کا دعویٰ جھوٹا ہے ماسوائے اس کے بھی بہت سے لوگ ان کے خلاف اور ہمارے ساتھ ہیں۔معتزلہ مسیحؑ کے آسمان پر زندہ اٹھائے جانے کے قائل نہیں ہیں۔صوفیوں کا یہی مذہب ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مسیح کی آمد بروزی ہے۔وَقَالَ مَالِکٌ مَاتَ۔امام مالکؒ موت ہی کے قائل ہیں۔ابن حزم کا بھی یہی مذہب ہے۔اب مالکی۔ابن حزم کے ماننے والے اور معتزلہ اس مسئلہ میں ہمارے ساتھ ہیں۔لیکن پھر بھی علیٰ سبیل تنزّل اگر ہم مان لیں کہ کوئی بھی ہمارے ساتھ ان میں سے نہیں تو بھی ہم تو یہ کہتے ہیں کہ قرونِ ثلاثہ کے بعد زمانہ کا نام فَیْجِ اَعْوَجْ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے رکھا ہے۔یعنی ایک ٹیٹرھا گروہ اور ان کی نسبت فرمایا لَیْسُوْامِنِّیْ وَلَسْتُ مِنْھُمْ۔اب ان کے ہاتھ میں کیا رہا۔۹۲؎ صحابہؓ کے وارث ہم، قرآن اور حدیث کے مغز کے وارث تو ہم ہی ٹھہرے۔باقی رہی یہ بات کہ لکھا ہوا ہے کہ مسیح نازل ہو گا۔پس یاد رہے کہ نزول کا لفظ کس قدر وسیع ہے۔نزیل مسافر کو بھی کہتے ہیں۔مسئلہ بروز ماسوا اس کے اصل بات یہ ہے جس کو یاد رکھنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو آخری زمانہ کا علم دیا گیا تھا۔آپ نے اس علم کے موافق دو بروزوں کی خبر دی تھی اہل اللہ اس بات کے قائل ہیں کہ مراتب وجود دو ہی ہیں۔میں اس کو مانتا ہوں۔قرآن شریف سے