ملفوظات (جلد 1) — Page 399
وہاں سے چل دیتا ہے۔اسی طرح پر انبیاء علیہم السلام جس کام کے واسطے دنیا میں آتے ہیں جب اس کو کر لیتے ہیں تو پھر وہ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔بس جب اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ کی صدا پہنچی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سمجھ لیا کہ یہ آخری صدا ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کا فہم بہت بڑھا ہوا تھا اور یہ جو احادیث میں آیا ہے کہ مسجد کی طرف سب کھڑکیاں بند کی جاویں مگر ابو بکرؓ کی کھڑکی مسجد کی طرف کھلی رہے گی۔اس میں یہی سِرّ ہے کہ مسجد چونکہ مظہرِ اسرارِ الٰہی ہوتی ہے اس لئے حضرت ابو بکر صدیقؓ کی طرف یہ دروازہ بند نہیں ہوگا۔انبیاء علیہم السلام استعارات اور مجازات سے کام لیتے ہیں۔جو شخص خشک ملاؤں کی طرح یہ کہتا ہے کہ نہیں ظاہر ہی ظاہر ہوتا ہے وہ سخت غلطی کرتا ہے۔مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے کو کہنا کہ یہ دہلیز بدل دے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سونے کے کڑے دیکھنا وغیرہ امور اپنے ظاہری معنوں پر نہیں تھے بلکہ استعارہ اور مجاز کے طور پر تھے ان کے اندر ایک اور حقیقت تھی۔غرض مدعا یہ ہے کہ حضرت ابو بکرؓ کو فہم قرآن سب سے زیادہ دیا گیا تھا۔اب جبکہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ استدلال کیا۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ اگر یہ معنی بظاہر معارض بھی ہوتے۔تب بھی تقویٰ اور دیانتداری کا تقاضا تو یہ تھا کہ ابو بکرؓ ہی کی مانتے۔مگر یہاں تو ایک بھی لفظ قرآن شریف میں ایسا نہیں ہے جو حضرت ابو بکرؓ کے معنوں کا معارض ہو۔اب مولویوں سے پوچھو کہ ابو بکرؓ دانش مند تھا یا نہیں؟ کیا یہ وہ ابو بکرؓ نہیں جو صدیق کہلایا؟ کیا یہی وہ شخص نہیں جو سب سے پہلے خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا بنا؟ جس نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی کہ خطرناک ارتداد کی وبا کو روک دیا۔اچھا اور باتیں جانے دو۔یہی بتاؤ کہ ابو بکرؓ کو منبر پر چڑھنے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی؟ پھر تقویٰ سے یہ بتاؤ کہ انہوں نے جو مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ پڑھا تو اس سے استدلال تام کرنا تھا یا ایسا ناقص کہ ایک بچہ بھی کہہ سکتا کہ عیسٰیؑ کو موتٰی سمجھنے والا کافر ہوتا ہے۔افسوس! ان مخالفوں نے میری مخالفت اور عداوت میں یہی نہیں کہ قرآن کو چھوڑا بلکہ میری