ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 384 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 384

ہے کہ بے اختیار ہو ہو کر دل اس کی طرف چلے آئیں۔مثلاً اگر ایک خوشنما باغ کی تعریف کی جاوے اس کے خوشبودار درختوں اور دل کو تروتازہ کرنے والی بوٹیوں اور روشوں اور مصفّا پانی کی بہتی ہوئی ندیوں اور نہروں کا تذکرہ کیا جاوے تو ہر ایک شخص دل سے چاہے گا کہ اس کی سیر کرے اور اس سے حظ اٹھاوے۔اور اگر یہ بھی بتایا جاوے کہ اس میں بعض چشمے ایسے جاری ہیں جو امراض مُزمنہ اور مہلکہ کو شفا دیتے ہیں تو اور بھی زیادہ جوش اور طلب کے ساتھ لوگ وہاں جائیں گے۔اسی طرح پر قرآن شریف کی خوبیوں اور کمالات کو اگر نہایت ہی خوبصورت اور مؤثر الفاظ میں بیان کیا جاوے تو روح پورے جوش کے ساتھ اس طرف دوڑتی ہے۔قرآنی علوم کے انکشاف کے لئے تقویٰ شرط ہے اور حقیقت میں روح کی تسلی اور سیری کا سامان اور وہ بات جس سے روح کی حقیقی احتیاج پوری ہوتی ہے قرآن کریم ہی میں ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ اور دوسری جگہ کہا لَا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۠ (الواقعۃ:۸۰) مُطَھَّرُوْن سے مراد وہی متّقین ہیں جو هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ میں بیان ہوئے ہیں۔اس سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ قرآنی علوم کے انکشاف کے لئے تقویٰ شرط ہے۔علوم ظاہری اور علوم قرآنی کے حصول کے درمیان ایک عظیم الشان فرق ہے۔دنیوی اور رسمی علوم کے حاصل کرنے کے واسطے تقویٰ شرط نہیں ہے۔صرف و نحو، طبعی، فلسفہ، ہیئت و طبابت پڑھنے والے کے واسطے یہ ضروری امر نہیں ہے کہ وہ صوم و صلوٰۃ کا پابند ہو۔اوامر الٰہی اور نواہی کو ہر وقت مد نظر رکھتا ہو۔اپنے ہر فعل و قول کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی حکومت کے نیچے رکھے۔بلکہ بسا اوقات کیا عموماً دیکھا گیا ہے کہ دنیوی علوم کے ماہر اور طلب گار دہریہ منش ہوکر ہر قسم کے فسوق و فجور میں مبتلا ہوتے ہیں۔آج دنیا کے سامنے ایک زبردست تجربہ موجود ہے۔یورپ اور امریکہ باوجودیکہ وہ لوگ ارضی علوم میں بڑی بڑی ترقیاں کر رہے ہیں اور آئے دن نئی ایجادات کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی روحانی اور اخلاقی حالت بہت کچھ قابل شرم ہے۔لنڈن کے پارکوں اور پیرس کے ہوٹلوں کے حالات جو کچھ شائع ہوئے ہم تو ان کا ذکر بھی نہیں کر سکتے۔مگر علومِ آسمانی