ملفوظات (جلد 1) — Page 380
ایک مخرج پیدا کردیتا ہے اور اس کو غیب سے اُس سے مخلصی پانے کے اسباب بہم پہنچا دیتا ہے۔اُس کو ایسے طور سے رزق دیتا ہے کہ اُس کو پتا بھی نہ لگے۔اب غور کرکے دیکھ لو کہ انسان اَور دنیا میں چاہتا کیا ہے۔انسان کی بڑی سے بڑی خواہش دنیا میں یہی ہے کہ اس کو سُکھ اور آرام ملے اور اُس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی راہ مقرر کی ہے جو تقویٰ کی راہ کہلاتی ہے اور دوسرے لفظوں میں اُس کو قرآن کریم کی راہ کہتے ہیں اور یا اس کا نام صراط مستقیم رکھتے ہیں۔کفار کے مال و دولت کوئی یہ نہ کہے کہ کُفّار کے پاس بھی مال و دولت اور املاک ہوتے ہیں اور وہ اپنی عیش و عشرت میں منہمک اور مست رہتے ہیں۔میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ وہ دنیا کی آنکھ میں بلکہ ذلیل ذلیل دنیاداروں اور ظاہر پرستوں کی آنکھ میں خوش معلوم دیتے ہیں مگر درحقیقت وہ ایک جلن اور دکھ میں مبتلا ہوتے ہیں۔تم نے ان کی صورت کو دیکھا ہے مگر میں ایسے لوگوں کے قلب پر نگاہ کرتا ہوں تو ایک سَعِیْـر اور سَلَاسِل واَغْلَال میں جکڑے ہوئے ہیں۔جیسے فرمایا ہے اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِيْرًا (الدھر:۵) وہ نیکی کی طرف آہی نہیں سکتے اور ایسے اغلال ہیں کہ خدا کی طرف ان اغلال کی وجہ سے ایسے دبے پڑے ہیں کہ حیوانوں اور بہائم سے بھی بدتر ہو جاتے ہیں۔ان کی آنکھ ہر وقت دنیا ہی کی طرف لگی رہتی ہے اور زمین کی طرف جھکتے جاتے ہیں۔پھر اندر ہی اندر ایک سوزش اور جلن بھی لگی ہوئی ہوتی ہے۔اگر مال میں کمی ہو جائے یا حسب مراد تدبیر میں کامیابی نہ ہو تو کڑھتے اور جلتے ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات سودائی اور پاگل ہو جاتے ہیں یا عدالتوں میں مارے مارے پھرتے ہیں۔یہ واقعی بات ہے کہ بے دین آدمی سعیر سے خالی نہیں ہوتا اس لئے کہ اس کو قرار اور سکون نصیب نہیں ہوتا جو راحت اور تسلی کا لازمی نتیجہ ہے۔جیسے شرابی ایک جام شراب پی کر ایک اور مانگتا ہے اور مانگتا ہی جاتا ہے اور ایک جلن سی لگی رہتی ہے ایسا ہی دنیا دار بھی سعیر میں ہے۔اس کی آتش آز ایک دم بھی بجھ نہیں سکتی۔سچی خوشحالی حقیقت میں ایک متّقی ہی کے لئے ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ اس کے لئے دو جنت ہیں۔