ملفوظات (جلد 1) — Page 379
جو اس کے حق میں مضرت بخش ہے تو وہ اس کو فی الفور منظور کرلے۔نہیں بلکہ وہ اس کو رَدّ کردیتا ہے اور اس کے بجائے اس سے بھی بہتر اُس کو عطا کرتا ہے اور وہ یقیناً سمجھ لیتا ہے کہ یہ میری فلاں دعا کا اثر اور نتیجہ ہے۔اپنی غلطی پر بھی اس کو اطلاع ملتی ہے۔غرض یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ متّقیوں کی بھی بعض دُعا قبول نہیں ہوتی۔نہیں اُن کی تو ہر دعا قبول ہوتی ہے۔ہاں اگر وہ اپنی کمزوری اور نادانی کی وجہ سے کوئی ایسی دعا کر بیٹھیں جو ان کے لئے عمدہ نتائج پیدا کرنے والی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس دعا کے بدلہ میں اُن کو وہ چیز عطا کرتا ہے جو اُن کی شے مطلوبہ کا نعم البدل ہو۔متّقی کون ہوتے ہیں؟ اب اس کے بعد پھر میں اصل مطلب کی طرف آتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ متّقی کون ہوتے ہیں؟ درحقیقت متّقیوں کے واسطے بڑے بڑے وعدے ہیں اور اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ اللہ متّقیوں کا ولی ہوتا ہے۔جھوٹے ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ ہم مقربِ بارگاہ الٰہی ہیں اور پھر متّقی نہیں ہیں بلکہ فسق و فجور کی زندگی بسر کرتے ہیں اور ایک ظلم اور غضب کرتے ہیں جبکہ وہ ولایت اور قربِ الٰہی کے درجہ کو اپنے ساتھ منسوب کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ متّقی ہونے کی شرط لگا دی ہے۔نصرت پھر ایک اور شرط لگاتا ہے یا یہ کہو متّقیوں کا ایک نشان بتاتا ہے اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا۔خدا اُن کے ساتھ ہوتا ہے یعنی اُن کی نصرت کرتا ہے جو متّقی ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی معیت کا ثبوت اس کی نصرت ہی سے ملتا ہے۔پہلا دروازہ ولایت کا ویسے بند ہوا۔اب دوسرا دروازہ معیت اور نصرت الٰہی کا اس طرح پر بند ہوا۔یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی نصرت کبھی بھی ناپاکوں اور فاسقوں کو نہیں مل سکتی۔اس کاانحصار تقویٰ ہی پر ہے۔خدا کی اعانت متّقی ہی کے لئے ہے۔معاشی وسعت پھر ایک اور راہ ہے کہ انسان مشکلات اور مصائب میں مبتلا ہوتا ہے اور حاجاتِ مختلفہ رکھتا ہے۔اُن کے حل اور روا ہونے کے لیے بھی تقویٰ ہی کو اصول قرار دیا ہے۔معاش کی تنگی اور دوسری تنگیوں سے راہِ نجات تقویٰ ہی ہے۔فرمایا۔مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق:۴،۳) متّقی کے لئے ہر مشکل سے