ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 368 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 368

اور کس قدر آئے دن نئی ایجادیں کرتے ہیں۔قلب کا کام جب ہوتا ہے، جب انسان خدا کا بنتا ہے اس وقت اندر کی ساری طاقتیں اور ریاستیں معدوم ہو کر قلب کی سلطنت ایک اقتدار اور قوت حاصل کرتی ہے۔تب انسان کامل انسان کہلاتا ہے۔یہ وہی وقت ہوتا ہے جبکہ وہ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ (الـحجر:۳۰) کا مصداق ہوتا ہے اور ملائکہ تک اسے سجدہ کرتے ہیں۔اس وقت وہ ایک نیا انسان ہوتا ہے۔اس کی روح پوری لذّت اور سرور سے سرشار ہوتی ہے۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ لذّت ایسی لذّت نہیں جیسا کہ ایک ناعاقبت اندیش بدکار زنا کرنے میں پاتا ہے یا خوش الحانی کا شائق سرود اور خوش گلو کے گانے میں پاتا ہے۔نہیں بلکہ اس سے دھوکا نہ کھانا چاہیے۔روح کی لذّت ۸۷؎ اس وقت ملتی ہے جب انسان گداز ہو کر پانی کی طرح بہنا شروع ہوتا ہے اور خوف و خشیت سے بہہ نکلتا ہے۔ا س مقام پر وہ کلمہ بنتا ہے اور اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ (یٰسٓ:۸۳) کا مفہوم اس میں کام کرنے لگتا ہے۔کلمۃ اللہ اور روح کی حقیقت لوگوں نے کلمۃ اللہ کے لفظ پر جو مسیح کی نسبت آیا ہے سخت غلطی کھائی ہے اور مسیح کی کوئی خصوصیت سمجھی ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ہر انسان جب نفسانی ظلمتوں اور گندگیوں اور تیرگیوں سے نکل آتا ہے اس وقت وہ کلمۃ اللہ ہوتا ہے۔یاد رکھو ہر انسان کلمۃ اللہ ہے کیونکہ اس کے اندر روح ہے جس کا نام قرآن شریف میں اَمْرِ رَبّی رکھا گیا ہے۔لیکن انسان نادانی اور ناواقفی سے روح کی کچھ قدر نہ کرنے کے باعث اس کو انواع و اقسام کی سلاسل اور زنجیروں میں مقید کر دیتا ہے اور اس کی روشنی اور صفائی کو خطر ناک تاریکیوں اور سیاہ کاریوں کی وجہ سے اندھا اور سیاہ کر دیتا ہے اور اسے ایسا دھندلا بناتا ہے کہ پتا بھی نہیں لگتا۔لیکن جب توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اپنی ناپاک اور تاریک زندگی کی چادر اتار دیتا ہے تو قلب منور ہونے لگتا ہے اور پھر اصل مبدء کی طرف رجوع شروع ہوتا ہے۔یہاں تک کہ تقویٰ کے