ملفوظات (جلد 1) — Page 362
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۲ جلد اول ہے اور لوگ اس کو پسند کرتے ہیں۔ ویسے ہی بازاری عورت گاتی ہے اسے بھی پسند کرتے ہیں ۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نفس یہی چیز ہے جو ایک واعظ کے وعظ سے بھی لذت اٹھاتا ہے اور دوسری طرف ایک بدکار عورت کے گانے سے بھی لذت اٹھاتا ہے حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ یہ عورت بدکار ہے۔ اس کے اخلاق ، اس کی معاشرت بہت ہی قابل نفرت ہے لیکن اس پر بھی اگر وہ اس کی باتوں اور اس کے گانے سے لذت اٹھاتا ہے اور اس کو نفرت اور بد بو نہیں آتی، تو یقیناً سمجھو کہ یہ نفسانی لذت ہے ورنہ روح تو ایسی گھناؤنی اور متعفن تھے پر راضی نہیں ہوسکتی ۔ اس قابلِ رحم واعظ کو یہ پتا نہیں ہوتا کہ مجھ میں پاک حصہ نہیں ہے۔ ایسا ہی وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے سامعین نہیں سمجھتے کہ ہم یہاں صرف نفسانی لذت کے لئے بیٹھے ہیں اور خدا کا بخرہ ہم میں نہیں ہے۔ پس میں خدا تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں کہ وہ ہماری تقریروں ہمارے بولنے والوں اور سننے والوں میں سے اس نا پاک اور خبیث روح کے حصہ کو نکال کر محض للہیت بھر دے۔ ہم جو کچھ کہیں خدا کے لئے ، اس کی رضا حاصل کرنے کے واسطے اور جو کچھ سنیں خدا کی باتیں سمجھ کر سنیں اور نیز عمل کرنے کے واسطے سنیں اور مجلس وعظ سے ہم صرف اتنا ہی حصہ نہ لے جائیں کہ یہ کہیں آج بہت اچھا وعظ ہوا۔ راستبازی اور ربانی واعظ مسلمانوں میں ادبار اور زوال آنے کی یہ بڑی بھاری وجہ ہے ورنہ اس قدر کا نفرنسیں اور انجمنیں اور مجلسیں ہوتی ہیں اور وہاں بڑے بڑے لسان اور لیکچرار اپنے لیکچر پڑھتے اور تقریریں کرتے ، شاعر قوم کی حالت پر ن ، نوحہ خوانیاں کرتے ہیں ۔ وہ بات کیا ہے کہ اس کا کچھ بھی اثر نہیں ہوتا؟ قوم دن بدن ترقی کی بجائے منزل ہی کی طرف جاتی ہے۔ بات یہی ہے کہ ان مجلسوں میں آنے جانے والے اخلاص لے کر نہیں جاتے۔ وہاں لیکچراروں کی غرض جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے خواہ مخواہ مولوی ہوں یا نئے تعلیم یافتہ مشائخ ہوں یا صوفی ان سب کی غرض صرف واہ واسننا ہوتا ہے۔ تقریر کرتے وقت ان کے معبود سامعین ہوتے ہیں جن کی خوشی اور رضامندی اُن کو مطلوب ہوتی ہے نہ خدا کی رضا ۔ لیکن راست باز حقانی لوگ جو قیامت تک ہوں گے اُن کا یہ مقصد اور منشا کبھی نہیں ہوتا۔ اُن کا مقصود اور