ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 358 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 358

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۸ جلد اول ارادہ کے کچھ ہو نہیں سکتا اور جو لوگ اس طرح دینی خدمات میں مصروف ہوئے ہیں وہ یا درکھیں کہ وہ خدا پر کوئی احسان نہیں کرتے۔ جیسا کہ ہر ایک فصل کے کاٹنے کا وقت آجاتا ہے ایسا ہی مفاسد کے دور کر دینے کا اب وقت آگیا ہے۔ تثلیث پرستی حد کو پہنچ گئی ہے صادق کی عیسائیت کے زوال کا وقت آگیا ہے تو ہین وگستاخی انتہا تک کی گئی ہے۔ رسول اللہ کا قدر مکھی اور زنبور جتنا نہیں کیا گیا۔ زنبور سے بھی آدمی ڈرتا ہے اور چیونٹی سے بھی اندیشہ کرتا ہے مگر حضرت رسول کریم کو برا کہنے میں کوئی نہیں جھوکا ۔ كَذَّبُوا بِايتنا (البقرۃ:۴۰) کے مصداق ہو رہے ہیں۔ جتنا منہ اُن کا کھل سکتا ہے انہوں نے کھولا اور منہ پھاڑ پھاڑ کر سب وشتم کہے۔ اب وہ وقت واقعی آگیا ہے کہ خدا ان کا تدارک کرے۔ ایسے وقت میں وہ ہمیشہ ایک آدمی کو پیدا کیا کرتا ہے ۔ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا (الاحزاب : ۶۳) وہ ایسے آدمی کو پیدا کرتا ہے جو اس کے عظمت و جلال کے لئے بہت ہی جوش رکھتا ہو۔ باطنی مدد کا اس آدمی کو سہارا ہوتا ہے۔ دراصل سب کچھ خدا تعالیٰ آپ کرتا ہے مگر اس کا پیدا کرنا صرف ایک سنت کا پورا کرنا ہوتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے۔ خدا نے عیسائیوں کو قرآن کریم میں نصیحت کی تھی کہ اپنے دین میں غلو نہ کریں پر انہوں نے اس نصیحت پر عمل نہ کیا اور پہلے وہ صرف ضالین تھے پر اب مضلین بھی بن گئے ۔ خدا کے صحف قدرت پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بات حد سے گزر جاتی ہے تو آسمان پر طیاری کی جاتی ہے۔ یہی اس کا نشان ہے کہ یہ طیاری کا وقت آگیا ہے۔ سچے نبی رسول مجدد کی بڑی نشانی یہی ہے کہ وہ وقت پر آوے ، ضرورت کے وقت آوے۔ لوگ قسم کھا کر کہیں کہ کیا یہ وقت نہیں کہ آسمان پر کوئی طیاری ہو؟ مگر یا درکھو کہ خدا سب کچھ آپ کرتا ہے۔ ہم اور ہماری جماعت اگر سب کے سب حجروں میں بیٹھ جاویں تب بھی کام ہو جاوے گا اور دجال کو زوال آوے گا تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا (ال عمران: ۱۴۱)