ملفوظات (جلد 1) — Page 347
دُکھ اور تکلیف خدا تعالیٰ کی طرف قدم اُٹھانے سے اُسے روک نہیں سکتی۔شہید اُسی وقت کسی کو کہیں گے جب اُس کی قوتِ ایمانی اس سے وہ فعل دکھاتی ہے کہ آرام سے ان افعال کا صدور ہو۔جیسے پانی اُوپر سے نیچے کو گرتا ہے اسی طرح پر شہید سے اعمالِ صالحہ کا صدور ہوتا ہے۔شہید اللہ تعالیٰ کو گویا دیکھتا ہے اور اُس کی طاقتوں کا مشاہدہ کرتا ہے۔جب یہ مقام کامل درجہ پر پہنچے تو یہ ایک نشان ہوتا ہے۔ابتلا اور آزمائش میں شہید کا رویّہ بعض آدمی دیکھے گئے ہیں کہ جب کوئی ابتلا آجاوے تو گھبرا اُٹھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا شکوہ کرنے لگتے ہیں۔اُن کی طبیعت میں ایک افسردگی پائی جاتی ہے کیونکہ وہ صلح کُلّی طور پر جو خدا تعالیٰ سے ہونی چاہیے اُن کو حاصل نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ سے اسے اُسی وقت تک صلح رہ سکتی ہے جب تک اُس کی مانتا رہے۔یہ بھی یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کا معاملہ ایک دوست کا سا معاملہ ہے کبھی ایک دوست دوسرے دوست کی مان لیتا ہے اور دوسرے وقت اس کو اس دوست کی ماننی پڑتی ہے اور یہ تسلیم خوشی اور انشراح صدر سے ہو نہ کہ مجبوراً۔خدا تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ (البقرۃ:۱۵۶) یعنی ہم آزماتے رہیں گے کبھی ڈرا کر، کبھی بھوک سے کبھی مالوں اور ثمرات وغیرہ کا نقصان کرکے۔ثمرات میں اولاد بھی داخل ہے اور یہ بھی کہ بڑی محنت سے کوئی فصل طیار کی اور یکایک اُسے آگ لگی اور وہ تباہ ہوگئی یا اور اُمور کے لئے محنت مشقّت کی نتیجہ میں ناکام رہ گیا۔غرض مختلف قسم کے ابتلا اور عوارض انسان پر آتے ہیں اور یہ خدا تعالیٰ کی آزمائش ہے۔ایسی صُورت میں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی اور اس کی تقدیر کے لئے سرِ تسلیم خم کرتے ہیں وہ بڑی شرح صدر سے کہتے ہیں اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ (البقرۃ:۱۵۷) کسی قسم کا شکوہ اور شکایت یہ لوگ نہیں کرتے۔ایسے لوگوں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اُولٰٓىِٕكَ عَلَيْهِمْ صَلَوٰتٌ۔الخ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جن کے حصہ میں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت آتی ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کو مشکلات میں راہ دکھا دیتا ہے۔یاد رکھو اللہ تعالیٰ بڑا ہی کریم و رحیم اور بامروّت ہے۔جب کوئی اس کی رضا کو مقدّم کرلیتا ہے اور اُس کی مرضی پر راضی ہوجاتا ہے تو وہ اُس کو اُس کا بدلہ دیئے بغیر نہیں چھوڑتا۔غرض یہ تو وہ مقام اور مرحلہ ہے جہاں وہ اپنی بات منوانی چاہتا ہے۔