ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 345

خلاصہ یہ کہ جیسا کہ مَیں بیان کرچکا ہوں کہ جب انسان اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہہ کر صدق اور وفاداری کے ساتھ قدم اُٹھاتا ہے تو خدا تعالیٰ ایک بڑی نہر صدق کی کھول دیتا ہے جو اس کے قلب پر آکر گرتی ہے اور اُسے صدق سے بھر دیتی ہے۔وہ اپنی طرف سے بِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ لاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اعلیٰ درجہ کی گراں قدر جنس اس کو عطا کرتا ہے۔اس سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس مقام میں انسان یہاں تک قدم مارے کہ وہ صدق اس کے لیے ایک خارق عادت نشان ہو۔اس پر اس قدر معارف اور حقائق کا دریا کھلتا ہے اور ایسی قوت دی جاتی ہے کہ ہر شخص کی طاقت نہیں ہے کہ اس کا مقابلہ کرے۔۸۳؎ مقامِ شہادت تیسرا کمال شہداء کا ہے۔عام لوگ تو شہید کے لئے اتنا ہی سمجھ بیٹھے ہیں کہ شہید وہ ہوتا ہے جو تیر یا بندوق سے مارا جاوے یا کسی اور اتفاقی موت سے مَر جاوے مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہادت کا یہی مقام نہیں ہے۔مَیں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ سرحد کے پٹھانوں کو یہ بھی ایک خبط سمایا ہوا ہے کہ وہ انگریز افسروں پر آکر حملے کرتے ہیں اوراپنی شوریدہ سری سے اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اگر ہم کسی کافر یا غیر مذہب والے کو ہلاک کردیں گے تو ہم غازی ہوں گے اور اگر مارے جاویں گے تو شہید ہوں گے۔مجھے ان کمینہ فطرت مُلانوں پر بھی افسوس ہے جوان شوریدہ سر پٹھانوں کو اُکساتے ہیں۔وہ انہیں نہیں بتاتے کہ تم اگر کسی شخص کو بلاوجہ قوی قتل کرتے ہو تو غازی نہیں ظالم ٹھیرتے ہو اور اگر وہاں ہلاک ہو جاتے ہو تو شہید نہیں بلکہ خودکشی کر کے حرام موت مَرتے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے لَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرۃ:۱۹۶) وہ اپنے آپ کو خود ہلاکت میں ڈالتے ہیں اور فساد کرتے ہیں۔مَیں یقین رکھتا ہوں کہ وہ سخت سزا کے مستوجب ہیں۔غرض عام لوگوں نے تو شہادت اتنی سمجھ رکھی ہے اور شہید کا یہی مقام ٹھیرا لیا ہے مگر میرے نزدیک شہید کی حقیقت قطع نظر اس کے کہ اس کا جسم کاٹا جاوے کچھ اور ہی ہے اور وہ ایک کیفیت ہے جس کا تعلق دل سے ہے۔یاد رکھو کہ صدیق نبی سے ایک قُرب رکھتا ہے اور وہ اس کے دُوسرے درجہ پر ہوتا ہے اور شہید صدیق کا ہمسایہ ہوتا ہے۔