ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 344 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 344

سزا دی۔اور امن کو قائم کردیا۔اسی طرح پر جیسے خدا تعالیٰ نے فرمایا اور وعدہ کیا تھا کہ مَیں سچے خلیفہ پر امن کو قائم کروں گا۔یہ پیشگوئی حضرت صدیقؓ کی خلافت پر پوری ہوئی اور آسمان نے اور زمین نے عملی طور پر شہادت دے دی۔پس یہ صدیق کی تعریف ہے اُس میں صدق اس مرتبہ اور کمال کا ہونا چاہیے۔نظائر سے مسائل بہت جلد حل ہوجاتے ہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام کا مقامِ صدّیقیت اگر گذشتہ زمانہ میں اس کی نظیر دیکھی جاوے تو پھر یوسفؑ کاصدق ہے۔ایسا صدق دکھایا کہ یوسف ؑصدیق کہلایا۔ایک خوبصورت، معزز اور جوان عورت جو بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، عین تنہائی اور تخلیہ میں ارتکابِ فعل بد چاہتی ہے لیکن آفرین ہے اس صدیق پر کہ خدا تعالیٰ کے حدود کو توڑنا پسند نہ کیا اور اس کے بالمقابل ہر قسم کی آفت اور دُکھ اُٹھانے کو آمادہ ہوگیا۔یہاں تک کہ قیدی کی زندگی بسر کرنی منظور کرلی چنانچہ کہا رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِمَّا يَدْعُوْنَنِيْۤ اِلَيْهِ (یوسف:۳۴) یعنی یوسفؑ نے دعا کی کہ اے رب مجھ کو قید پسند ہے اس بات سے جس کی طرف وہ مجھے بلاتی ہے۔اس سے حضرت یوسف علیہ السلام کی پاک فطرت اور غیرت نبوت کا کیسا پتا لگتا ہے کہ دوسرے امر کا ذکر تک نہیں کیا۔کیا مطلب کہ اُس کا نام نہیں لیا۔یوسفؑ اللہ تعالیٰ کے حُسن واحسان کے گرویدہ اور عاشقِ زار تھے۔اُن کی نظر میں اپنے محبوب کے سوا دوسری کوئی بات جچ سکتی نہ تھی۔وہ ہرگز پسند نہ کرتے تھے کہ حدُود اللہ کو توڑیں۔کہتے ہیں کہ ایک لنبا زمانہ جو بارہ برس کے قریب بتایا جاتا ہے وہ جیل میں رہے لیکن اس عرصہ میں کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہ آیا۔اللہ تعالیٰ اور اُس کی تقدیر پر پورے راضی رہے۔اس عرصہ میں بادشاہ کو کوئی عرضی بھی نہیں دی کہ اُن کے معاملہ کو سوچا جاوے یا اُنہیں رہائی دی جاوے۔بلکہ کہا جاتا ہے کہ اس اہلِ غرض عورت نے تکالیف کا سلسلہ بڑھا دیا کہ کسی طرح پر وہ پھسل جاویں مگر اس صدیق نے اپنا صدق نہ چھوڑا۔خدا نے ان کو صدیق ٹھہرایا۔یہ بھی صدیق کا ایک مقام ہے کہ دنیا کی کوئی آفت، کوئی تکلیف اور ذلت اُسے حدود اللہ کے توڑنے پر آمادہ نہیں کرسکتی۔جس قدر اذیتیں اور بلائیں بڑھتی جاویں وہ اُس کے مقام صدق کو زیادہ مضبوط اور لذیذ بناتی جاتی ہیں۔