ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 343 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 343

آرام کی زندگی عیسائیت ہی میں پاسکتے ہیں۔اُن کے لیے کوئی ضروری اَمر نہیں۔خواہ دس برس تک بھی غُسلِ جنابت نہ کریں۔پس ان لوگوں کو جو عیسائی ہوئے ہیں دیکھ کر تعجب نہیں کرنا چاہیے۔یہ دہریہ منش جو مرتد ہوئے ہیں اگر عیسائی نہ ہوتے تو باطنی طور پر بھی تو مرتد ہی تھے۔چار قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک ازلی کافر جو بے قیدی اور اباحت کی زندگی کو چاہتے ہیں۔اور تین قسم کے مومن ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ، مُقْتَصِدٌ، سَابِقٌۢ بِالْخَيْرٰتِ۔پہلی قسم کے مومن وہ ہیں جو ظالم ہیں یعنی ان پر کچھ کچھ جذباتِ نفس غالب آجاتے ہیں۔دوسرے میانہ رو اور تیسرے خیرِ مجسّم۔اب ازلی کافر جو نفس کے غلام اور بندے ہیں جن کی غرض و غایت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ بے قیدی کی زندگی بسر ہو اور روپیہ بھی مل جاوے۔اُن کو اسلام سے کیا مناسبت وہ تو عیسائیت کو پسند کریں گے جہاں تنخواہ مل جاوے اور کسی چیز کی ضرورت نہ رہے۔گرجا میں گئے تو وہاں بھی محض اس غرض سے کہ صدہا خوبصورت عورتیں اچھے لباس پہن کر جاتی ہیں۔وہاں بدنظری کے لئے جا بیٹھے۔غرض اس قسم کی اباحتی زندگی والوں کو اسلام سے کوئی مناسبت ہو ہی نہیں سکتی۔حضرت ابوبکر ؓ اسلام کے لئے آدمِ ثانی ہیں اُس زمانہ میں بھی مسیلمہ نے اباحتی رنگ میں لوگوں کو جمع کر رکھا تھا۔ایسے وقت میں حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ ہوئے تو انسان خیال کرسکتا ہے کہ کس قدر مشکلات پیدا ہوئے ہوں گے۔اگر وہ قوی دِل نہ ہوتا اور ایمانِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کارنگ اُس کے ایمان میں نہ ہوتا تو بہت ہی مشکل پڑتی اور گھبرا جاتا لیکن صدیق ؓ نبیؐ کا ہمسایہ تھا۔آپ کے اخلاق کا اثر ان پر پڑا ہوا تھا اور دل نورِ یقین سے بھرا ہوا تھا اس لیے وہ شجاعت اور استقلال دکھایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اُس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔اُن کی موت اسلام کی زندگی تھی۔یہ ایسا مسئلہ ہے کہ اس پر کسی لنبی بحث کی حاجت ہی نہیں۔اُس زمانہ کے حالات پڑھ لو اور پھر جو اسلام کی خدمت ابوبکر نے کی ہے اس کااندازہ کرو۔مَیں سچ کہتا ہوں کہ ابوبکر صدیقؓ اس اسلام کے لئے آدمِ ثانی ہیں۔مَیں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر صدیقؓ کا وجود نہ ہوتا، تو اسلام بھی نہ ہوتا۔ابوبکر صدیقؓ کا بہت بڑا احسان ہے اُس نے اسلام کو دوبارہ قائم کیا۔اپنی قوتِ ایمانی سے کُل باغیوں کو