ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 342

اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ (اٰل عـمران:۱۴۵) یعنی محمد صلی اللہ علیہ و سلم بھی اللہ تعالیٰ کے ایک رسول ہی ہیں اور آپؐ سے پہلے جس قدر نبی ہو گزرے ہیں سب نے وفات پائی ہے۔اس پر وہ جوش فرو ہوا۔اس کے بعد بادیہ نشین اعراب مرتد ہوگئے۔ایسے نازک وقت کی حالت کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یوں ظاہر کیا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوچکا ہے اور بعض جھوٹے مدعی نبوت کے ہوگئے ہیں اور بعضوں نے نمازیں چھوڑ دیں اور رنگ بدل گیا ہے۔ایسی حالت میں اور اس مصیبت میں میرا باپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ اور جانشین ہوا۔میرے باپ پر ایسے ایسے غم آئے کہ اگر پہاڑوں پر آتے تو وہ بھی نابود ہوجاتے۔اب غور کرو کہ مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ پڑنے پر بھی ہمت اور حوصلہ کو نہ چھوڑنا یہ کسی معمولی انسان کا کام نہیں۔یہ استقامت صدق ہی کو چاہتی تھی اور صدیق ؓ ہی نے دکھائی۔ممکن نہ تھا کہ کوئی دوسرا اس خطرہ کو سنبھال سکتا۔تمام صحابہ ؓ اس وقت موجود تھے۔کسی نے نہ کہا کہ میرا حق ہے۔وہ دیکھتے تھے کہ آگ لگ چکی ہے۔اس آگ میں کون پڑے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس حالت میں ہاتھ بڑھا کر آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر سب نے یکے بعد دیگرے بیعت کرلی۔یہ اُن کا ہی صدق تھا کہ اس فتنہ کو فرو کیا اور اُن موذیوں کو ہلاک کیا۔مسیلمہ کے ساتھ ایک لاکھ آدمی تھا اور اس کے مسائل اباحت کے مسائل تھے۔لوگ اس کی اباحتی باتوں کو دیکھ دیکھ کر اُس کے مذہب میں شامل ہوتے جاتے تھے لیکن خدا تعالیٰ نے اس معیت کا ثبوت دیا اور ساری مشکلات کو آسان کردیا۔عیسائیت قبول کرنے کی ترغیبات خونِ مسیحؑ پرایمان لانا بھی سہل ہوا ہوا ہے کیونکہ اس پر ایمان لانے سے ایک تو روٹی مِل جاتی ہے دوسرے اباحت کی زندگی۔پہلے تو اَللّٰہُ اَکْبَرُ کی آواز سے ہی نماز کے لئے اُٹھنا پڑتا اور اب یہ حال کہ خونِ مسیحؑ پر ایمان لاکر رات کو شراب پی کر سوگئے اور جب جی چاہا اُٹھے۔کوئی باز پُرس نہیں۔کچھ نہیں۔ایسی حالت میں لوگوں کا رجوع عیسائیت کی طرف ہونا لازمی اَمر ہے۔لوگوں کی حالت کچھ اس قسم کی ہوگئی ہے کہ کہتے ہیں۔’’ایہہ جہان مٹھا، اگلا کس نے ڈِٹھا۔‘‘ اس جہان میں بدمعاشیاں کرلو، آگے دیکھا جاوے گا۔اس قسم کے لوگ روٹی، بے قیدی اور