ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 341 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 341

پکڑے جاویں گے۔اس وقت آپؐ نے فرمایا لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا (التوبۃ:۴۰) کچھ غم نہ کھاؤ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔اس لفظ پر غور کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر صدیقؓ کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں یہ فرمایا اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا۔مَعَنَا میں آپ دونوں شریک۔یعنی تیرے اور میرے ساتھ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک پلّہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رکھا ہے اور دوسرے پر حضرت صدیقؓ کو۔اس وقت دونو ابتلا میں ہیں کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں سے یا تو اسلام کی بنیاد پڑنے والی ہے یا خاتمہ ہو جانے والا ہے۔دشمن غار پر موجود ہیں اور مختلف قسم کی رائے زنیاں ہو رہی ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ اس غار کی تلاشی کرو کیونکہ نشانِ پا یہاں تک ہی آکر ختم ہو جاتا ہے لیکن ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہاں انسان کا گزر اور دخل کیسے ہوگا۔مکڑی نے جالا تنا ہوا ہے، کبوتر نے انڈے دیئے ہوئے ہیں۔اس قسم کی باتوں کی آوازیں اندر پہنچ رہی ہیں اور آپ بڑی صفائی سے ان کو سن رہے ہیں۔ایسی حالت میں دشمن آئے ہیں کہ وہ خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔اور دیوانے کی طرح بڑھے آئے ہیں لیکن آپ کی کمال شجاعت کو دیکھو کہ دشمن سر پر ہے اور آپ اپنے رفیقِ صادق صدیق کو فرماتے ہیں لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا۔یہ الفاظ بڑی صفائی کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ نے زبان ہی سے فرمایا کیونکہ یہ آواز کو چاہتے ہیں۔اشارہ سے کام نہیں چلتا۔باہر دشمن مشورہ کر رہے ہیں اور اندر غار میں خادم و مخدوم بھی باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔اس امر کی پروا نہیں کی گئی کہ دشمن آواز سن لیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ پر کمال ایمان اور معرفت کا ثبوت ہے۔خدا تعالیٰ کے وعدوں پر پورا بھروسہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت کے لئے تو یہ نمونہ کافی ہے۔ابو بکر صدیق کی شجاعت کے لئے ایک دوسرا گواہ اس واقعہ کے سوا اَور بھی ہے۔آنحضرتؐ کی رحلت کے وقت حضرت ابو بکرؓ کی شجاعت جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت فرمائی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تلوار کھینچ کر نکلے کہ اگر کوئی کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کیا ہے تو میں اسے قتل کروں گا۔ایسی حالت میں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بڑی جرأت اور دلیری سے کلام کیا اور کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا مَا مُحَمَّدٌ