ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 334 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 334

انسان سمجھ لے لیکن فی الحقیقت کذب اختیار کرنے سے انسان کا دل تاریک ہو جاتا ہے اور اندر ہی اندر اسے ایک دیمک لگ جاتی ہے۔ایک جھوٹ کے لیے پھر اسے بہت سے جھوٹ تراشنے پڑتے ہیں کیونکہ اس جھوٹ کو سچائی کا رنگ دینا ہوتا ہے۔پس اسی طرح اندر ہی اندر اس کے اخلاقی اور رُوحانی قویٰ زائل ہو جاتے ہیں اور پھر اُسے یہاں تک جرأت اور دلیری ہو جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ پر بھی افترا کر لیتا اور خدا کے مُرسلوں اور ماموروں کی تکذیب بھی کر دیتا ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ اَظْلَم ٹھیرتا ہے۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ (الانعام:۲۱) یعنی اُس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور افترا باندھے یا اس کی آیات کی تکذیب کرے۔یقیناً یاد رکھو کہ یہ جھوٹ بہت ہی بُری بَلا ہے انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔اس سے بڑھ کر جھوٹ کا خطرناک نتیجہ کیا ہوگا کہ انسان خدا تعالیٰ کے مرسلوں اور اُس کی آیات کی تکذیب کر کے سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔پس صِدق اختیار کرو۔صِدق کے متعلق حضرت سید عبدالقادر جیلانی کا واقعہ سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے ذکر میں درج ہے کہ جب وہ اپنے گھر سے طلب علم کے لیے نکلے تو ان کی والدہ صاحبہ نے ان کے حصہ کی اسی (۸۰) اشرفیاں اُن کی بغل کے نیچے پیراہن میں سی دیں اور یہ نصیحت کی کہ بیٹا جھوٹ نہ بولنا۔سید عبدالقادرؒ جب رخصت ہوئے تو پہلی ہی منزل میں ایک جنگل میں سے اُن کا گزر ہوا جہاں چوروں اور قزاقوں کا ایک بڑا قافلہ رہتا تھا۔چوروں کا ایک گروہ ان کو ملا۔اُنھوں نے ان کو پکڑ کر پوچھا کہ تمہارے پاس کیا ہے؟انہوں نے دیکھا کہ یہ تو پہلی ہی منزل میں امتحان پیش آیا۔والدہ کی آخری نصیحت پر غور کی اور کہا کہ میرے پاس اسی (۸۰) اشرفیاں ہیں جو میری بغل کے نیچے میری والدہ نے سی دی ہیں۔وہ چور یہ سن کر سخت حیران ہوئے کہ یہ فقیر کیا کہتا ہے! ایسا راستباز ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔وہ انہیں پکڑ کر اپنے سردار کے پاس لے گئے اور سارا قصہ بیان کیا۔اس نے جب سوال کیا تب پھر سید عبد القادر جیلانیؒ نے وہی جواب دیا۔آخر جب ان کے پیراہن کے اس حصہ کو پھاڑ کر دیکھا گیا تو واقعی اس میں اسی (۸۰) اشرفیاں تھیں۔اُن سب کو حیرانی ہوئی اور اس سردار نے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ اس پر سید عبد القادر جیلانیؒ