ملفوظات (جلد 1) — Page 333
منہ سے کہتے ہیں کہ ہم خدا پر بھروسہ کرتے ہیں وہ بھی جھوٹے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی قدر نہیں کرتے خدا تعالیٰ کو آزماتے ہیں اور اس کی عطا کی ہوئی قوتوں اور طاقتوں کو لغو قرار دیتے ہیں اور اس طرح پر اس کے حضور شوخی اور گستاخی کرتے ہیں۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے مفہوم سے دور جا پڑتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے اور اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کا ظہور چاہتے ہیں یہ مناسب نہیں جہاں تک ممکن اور طاقت ہو رعایتِ اسباب کرے لیکن ان اسباب کو اپنا معبود اور مشکل کشا قرار نہ دے بلکہ کام لے کر پھر تفویض الی اللہ کرے اور اس بات پر سجدات شکر بجا لائے کہ اسی خدا نے وہ قویٰ اور طاقتیں اس کو عطا فرمائی ہیں۔۸۰؎ فانی فی اللہ کا مقام خدا تعالیٰ کے فضل اور تائید کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا۔جب اللہ تعالیٰ کی طرف انسان کھینچا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ میں فنا ہوجاتا ہے تو اس سے وہ کام صادر ہوتے ہیں جو خدائی کام کہلاتے ہیں۔اس پر اعلیٰ سے اعلیٰ انوار ظاہر ہونے لگتے ہیں۔انسانی کمزوری کا تو کچھ ٹھکانا ہی نہیں ہے۔وہ ایک قدم بھی خدا تعالیٰ کے فضل اور تائید کے بغیر نہیں چل سکتا۔میں تو یہاں تک یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے مدد نہ ملے تو وہ رفع حاجت کے بعد ازار بند تک بھی باندھنے کی طاقت نہیں رکھ سکتا۔طبیبوں نے ایک مرض لکھی ہے کہ انسان چھینک کے ساتھ ہی ہلاک ہو جاتا ہے۔یقیناً یاد رکھو کہ انسان کمزوریوں کا مجموعہ ہے اور اسی لیے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِيْفًا (النساء:۲۹) اس کا اپنا تو کچھ بھی نہیں ہے۔سر سے پاؤں تک اتنے اعضاء نہیں جس قدر امراض اس کو لاحق ہوتے ہیں۔پھر جب وہ اس قدر کمزوریوں کا نشانہ اور مجموعہ ہے تو اس کے لیے امن اور عافیت کی یہی سبیل ہے کہ خدائے تعالیٰ کے ساتھ اس کا معاملہ صاف ہو اور وہ اس کا سچا اور مخلص بندہ بنے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ صدق کو اختیار کرے۔جسمانی نظام کی کَل بھی صدق ہی ہے۔جو شخص صدق کو چھوڑتے ہیں اور خیانت کر کے جرائم کو پناہ میں لانے والی سِپر کذب کو خیال کرتے ہیں۔وہ سخت غلطی پر ہیں۔کِذب اختیار کرنے سے انسان کا دل تاریک ہو جاتا ہے آنی اور عارضی طور پر شاید کوئی فائدہ