ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 314

یاد رکھنا چاہیے کہ سلبِ ایمان دو طرح پر ہوتا ہے۔ایک تو انبیاء علیہم السلام کے انکار سے اس سے تو کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا اور یہ مسلّم بات ہے۔دوسرا اولیاء اللہ اور مامورین کے انکار سے سلبِ ایمان ہوتا ہے۔انبیاء علیہم السلام کے انکار سے سلبِ ایمان تو بالکل واضح امر ہے اور سب مانتے ہیں لیکن پھر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انبیاء علیہم السلام کے انکار سے سلب ایمان اس لئے ہوتا ہے کہ نبی کہتے ہیں ہم خدا کی طرف سے آئے ہیں اور خدا فرماتا ہے کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں یہ میرا قول ہے۔یہ میرا نبی ہے۔اس پر ایمان لاؤ۔میری کتاب کو مانو اور میرے احکام پر عمل کرو۔جو شخص اللہ تعالیٰ کی کتاب پر ایمان نہیں لاتا اور ان وصایا اور حدود پر جو اس میں بیان کئے گئے ہیں عمل نہیں کرتا ہے وہ ان سے منکر ہو کر کافر ہو جاتا ہے۔لیکن وہ صورت جس سے اولیاء اللہ کے انکار سے سلب ایمان ہوتا ہے۔اور ہے۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ عَادَ لِیْ وَلِیًّا فَاٰذَنْتُہٗ لِلْحَرْبِ یعنی جو شخص میرے ولی کے ساتھ دشمنی کرتا ہے وہ گویا میرے ساتھ جنگ کرنے کو طیار ہوتا ہے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب کوئی شخص کسی سے محبت کرتا ہو ایسی محبت جیسے کوئی اپنی اولاد سے کرتا ہے اور ایک اور شخص بار بار کہے کہ یہ مَر جاوے یا اور اسی قسم کی دلآزاری کی باتیں کرے اور اسے تکلیف دے تو وہ شخص اس سے کیونکر خوش ہو سکتا ہے اور وہ باپ جس کے بچے کے لئے کوئی بددعائیں کر رہا ہے یا رنج دِہ کلمات اس کے حق میں کہہ رہا ہے ایسے شخص سے کب محبت کر سکتا ہے؟ اسی طرح پر اولیاء اللہ بھی اطفال اللہ کا رنگ رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے جسمانی بلوغ کا چولا اتار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آغوش رحمت میں پرورش پاتے ہیں۔وہ ان کا متولّی، متکفّل اور ان کے لئے غیرت رکھنے والا ہوتا ہے۔جب کوئی شخص (خواہ وہ کیسا ہی نماز، روزہ رکھنے والا ہو) ان کی مخالفت کرتا ہے اور ان کے دکھ دینے پر کمر بستہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی غیرت جوش مارتی ہے اور ان مخالفت کرنے والوں پر اس کا غضب بھڑکتا ہے اس لئے کہ انہوں نے اس کے ایک محبوب کو دکھ دینا چاہا ہے۔اس وقت پھر نہ وہ نماز کام آتی ہے نہ روزہ کیونکہ نماز اور روزہ کے ذریعہ سے اسی ذات کو خوش کرنا تھا جس کو