ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 313

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۳ جلد اول کہ وہ اہل حق سے عداوت کرتے جس کا نتیجہ کا فر بنا دیتا ہے۔ یہ لوگ سمجھتے نہیں کہ ہم میں کون سی بات اسلام کے خلاف ہے۔ ہم اعمال صالحہ کی پہچان الہ الا اللہ کہے ہیں اورنماز یں بھی بڑھتے ہیں اور روزے کے صالحہ دنوں میں روزے بھی رکھتے ہیں اور زکوة بھی دیتے ہیں ۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ تمام اعمال اعمالِ صالحہ کے رنگ میں نہیں ہیں بلکہ محض ایک پوست کی طرح ہیں جن میں مغز نہیں ہے ورنہ اگر یہ اعمال ہیں تو پھر ان کے پاک نتائج کیوں پیدا نہیں ہوتے؟ اعمالِ صالحہ تو تب ہو سکتے ہیں کہ وہ ہر قسم کے فساد اور ملاوٹ سے پاک ہوں لیکن اُن میں یہ باتیں کہاں ہیں؟ میں کبھی یقین نہیں کر سکتا کہ ایک مومن منتقی ہو اور اعمال صالحہ کرنے والا ہو اور وہ اہل حق کا دشمن ہو حالانکہ یہ لوگ ہم کو بے قید اور دہر یہ کہتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے ۔ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ نے مامور کر کے بھیجا ہے لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی عظمت کچھ بھی ان کے دل میں ہوتی تو وہ انکار نہ کرتے اور اس سے ڈر جاتے کہ ایسا نہ ہو ہم خدا تعالیٰ کے نام کی تخفیف کرنے والے ٹھہریں لیکن یہ تب ہوتا کہ انہیں حقیقی اور اعلیٰ ایمان خدا پر ہوتا اور وہ یوم الجزاء سے ڈرتے اور لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ علم (بنی اسراءیل : ۳۷) پر ان کا عمل ہوتا ۔ ان کی دماغی قوت اور ایمانی اولیاء اللہ کا انکار سلپ ایمان کا موجب ہو جاتا ہے طاقت نے تو یہاں تک انہیں پہنچایا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نبی کا منکر تو کافر ہوتا ہے مگر ولی کے انکار سے کفر کیونکر لازم آتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک شخص کے انکار سے کیا حرج ؟ یہ لوگ انکار اولیاء اللہ کو معمولی بات سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے کیا بگڑتا ہے؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ اولیاء اللہ کا انکار سلپ ایمان کا موجب ہوتا ہے۔ جو شخص اس معاملہ میں غور کرے گا اسے اچھی طرح نظر آ جائے گا بلکہ ایسے طور پر نظر آجائے گا جیسے شیشے میں کوئی شکل دیکھ لیتا ہے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۹ مورخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۵ صفحه ۶،۵