ملفوظات (جلد 1) — Page 312
ہم بصیرتِ تام سے رسول اللہ کو خاتَم النّبیّین مانتے ہیں اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیّین نہیں مانتے یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ہم جس قوتِ یقین، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں اس کا لاکھواں حصہ بھی وہ نہیں مانتے اور ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔وہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت میں ہے سمجھتے ہی نہیں ہیں۔انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سنا ہوا ہے اور اُس کی حقیقت سے بے خبر ہیں وہ نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتا ہے اور اس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا؟ مگر ہم بصیرت تام سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذّت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کرسکتا بجز ان لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں۔دنیا کی مثالوں میں سے ہم ختم نبوت کی مثال اس طرح پر دے سکتے ہیں کہ جیسے چاند ہلال سے شروع ہوتا ہے اور چودھویں تاریخ پر آکر اُس کا کمال ہو جاتا ہے جب کہ اُسے بدر کہا جاتا ہے۔اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر کمالاتِ نبوت ختم ہوگئے۔جو یہ مذہب رکھتے ہیں کہ نبوت زبردستی ختم ہوگئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو یونس ؑ بن متیٰ پر بھی ترجیح نہیں دینی چاہیے۔اُنہوں نے اس حقیقت کو سمجھا ہی نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور کمالات کا کوئی علم ہی اُن کو نہیں ہے۔باوجود اس کمزوریٔ فہم اور کمیٔ علم کے ہم کو کہتے ہیں کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں۔میں ایسے مریضوں کو کیا کہوں اوراُن پر کیا افسوس کروں۔اگر اُن کی یہ حالت نہ ہوگئی ہوتی اور حقیقت اسلام سے بکلّی دور نہ جاپڑے ہوتے تو پھر میرے آنے کی ضرورت کیا تھی؟ ان لوگو ں کی ایمانی حالتیں بہت کمزور ہوگئی ہیں اور وہ اسلام کے مفہوم اور مقصد سے محض ناواقف ہیں ورنہ کوئی وجہ نہیں ہوسکتی تھی