ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 312

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۲ جلد اول ہم بصیرت تام سے رسول اللہ و خاتم النبیین مانتے ہیں اس جگہ یہ ھی یاد رکھنا چاہیے کہ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ ہم جس قوت یقین، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں اس کا لاکھواں حصہ بھی وہ نہیں مانتے اور ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔ وہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت میں ہے۔ سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سنا ہوا ہے اور اُس کی حقیقت سے بے خبر ہیں وہ نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتا ہے اور اس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ؟ مگر ہم بصیرت تام سے ( جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا بجز ان لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں ۔ دنیا کی مثالوں میں سے ہم ختم نبوت کی مثال اس طرح پر دے سکتے ہیں کہ جیسے چاند ہلال سے شروع ہوتا ہے اور چودھویں تاریخ پر آکر اُس کا کمال ہو جاتا ہے جب کہ اُسے بدر کہا جاتا ہے۔ اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر کمالات نبوت ختم ہو گئے ۔ جو یہ مذہب رکھتے ہیں کہ نبوت ز بر دستی ختم ہو گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یونس بن متی پر بھی ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ اُنہوں نے اس حقیقت کو سمجھا ہی نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور کمالات کا کوئی علم ہی اُن کو نہیں ہے۔ باوجود اس کمزوری فہم اور کمی علم کے ہم کو کہتے ہیں کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں ۔ میں ایسے مریضوں کو کیا کہوں اور اُن پر کیا افسوس کروں ۔ اگر اُن کی یہ حالت نہ ہوگئی ہوتی اور حقیقت اسلام سے بکلی دور نہ جا پڑے ہوتے تو پھر میرے آنے کی ضرورت کیا تھی؟ ان لوگوں کی ایمانی حالتیں بہت کمزور ہوگئی ہیں اور وہ اسلام کے مفہوم اور مقصد سے محض نا واقف ہیں ورنہ کوئی وجہ نہیں ہو سکتی تھی