ملفوظات (جلد 1) — Page 303
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۳ جلد اول جلسة الوداع کی تقریب پر حضرت اقدس کی تقریر بعثت کی غرض حضرت عیسی علیہ السلام کے صلیب پر سے زندہ اتر آنے اور اس حادثہ سے بچ جانے کا قرآن شریف میں صحیح اور یقینی علم دیا گیا ہے مگر افسوس ہے کہ پچھلے ہزار برس میں جہاں اسلام پر اور بہت سی آفتیں آئیں وہاں یہ مسئلہ بھی تاریکی میں پڑ گیا اور برس : مسلمانوں میں بد قسمتی سے یہ خیال راسخ ہو گیا کہ حضرت مسیح زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور وہ قیامت کے قریب آسمان سے اتریں گے مگر اس چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ نے مجھے مامور کر کے بھیجا تا کہ میں اندرونی طور پر جو غلطیاں مسلمانوں میں پیدا ہو گئی ہیں ان کو دور کروں اور اسلام کی حقیقت دنیا پر ظاہر کروں۔ اور بیرونی طور پر جو اعتراضات اسلام پر کئے جاتے ہیں ان کا جواب دوں اور دوسرے مذاہب باطلہ کی حقیقت کھول کر دکھاؤں ۔ خصوصیت کے ساتھ وہ مذہب جو صلیبی مذہب ہے یعنی عیسائی مذہب ، اس کے غلط اعتقادات کا استیصال کروں جو انسان کے لئے خطرناک و مضر ہیں اور انسان کی روحانی قوتوں کے نشوونما اور ترقیوں کے لئے ایک روک ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہی مسئلہ ہے جو مسیح کے عیسی ابن مریم کے متعلق اصل حقائق آسمان پر جانے سے متعلق ہےاور جس میں پو شستی 66 لے جن دنوں حضرت مسیح موعود کتاب مسیح ہندوستان میں تالیف کر رہے تھے اُنہیں ایام میں معلوم ہوا کہ نصیبین ملک عراق عرب ) میں حضرت مسیح ناصری کے بعض آثار موجود ہیں۔ جن سے اُن کے اُس سفر کا پتا ملتا ہے اور تصدیق ہوتی ہے کہ وہ کشمیر میں آکر رہے حضرت مسیح موعود نے قرین مصلحت سمجھا تھا کہ ایک کمیشن ( وفد ) بھیجا جائے جو ان آثار و حالات کی خود تفتیش اور تحقیقات کرے اور پھر اسی راستہ سے جو حضرت مسیح نے کشمیر آنے کے لئے تجویز کیا تھا۔ واپس ہوتے ہوئے قادیان پہنچ جائے اس وفد کو رخصت اور وداع کرنے کے لئے ایک جلسہ تجویز ہوا تھا جس کا نام جلسة الوداع رکھا گیا تھا۔ اگر چہ بعض پیش آمدہ امور ضروریہ کی وجہ سے اُس کمیشن کا بھیجا جانا ملتوی ہو گیا مگر یه جلسه ۱۲، ۱۳ ، ۱۴ رنومبر ۱۸۹۹ء کو خوب دھوم دھام سے ہوا۔ اُس میں آپ نے یہ تقریر فرمائی۔