ملفوظات (جلد 1) — Page 301
تثلیث ہم اس وقت بے انتہا خداؤں کا ذکر چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ یہ تو ہے ہی ایک بیہودہ اور بے معنی اعتقاد اور بے شمار خدا ماننے سے امان اُٹھ جاتا ہے مگر ہم تثلیث کا ذکر کرتے ہیں۔ہم نے جیسا کہ قدرت کے نظائر سے ثابت کیا ہے کہ خدا ایک ہی ہے۔اس طرح پر اگر خدا معاذ اللہ تین ہوتے جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں تو چاہیے تھا کہ پانی، آگ کے شعلے اور زمین آسمان کے اجرام سب کے سب سہ گوشہ ہوتے تاکہ تثلیث پر گواہی ہوتی۔اور نہ انسانی نُور قلب کبھی تثلیث پر گواہی دیتا ہے۔پادریوں سے پوچھا ہے کہ جہاں انجیل نہیں گئی وہاں تثلیث کا سوال ہوگا یا توحید کا تو انھوں نے صاف اقرار کیا ہے کہ توحید کا، بلکہ ڈاکٹر فنڈر نے اپنی تصنیف میں یہ اقرار درج کر دیا ہے۔اب ایسی کھلی شہادت کے ہوتے پھر مَیں نہیں سمجھ سکتا کہ تثلیث کا عقیدہ کیوں پیش کر دیا جاتا ہے۔پھر یہ سہ گوشہ خدا بھی عجیب ہیں۔ہر ایک کے کام الگ الگ ہیں۔گویا ہر ایک بجائے خود ناقص اور ناتمام ہے اور ایک دوسرے کا متمم ہے۔مسیح کی الُوہیّت اور مسیح جس کو خدا بنایا جاتا ہےاس کا تو کچھ پوچھو ہی نہیں۔ساری عمر پکڑ دھکڑ میں گزری اور ابن آدم کو سر دھرنے کو جگہ ہی نہ ملی۔اخلاق کا کوئی کامل نمونہ ہی موجود نہیں۔تعلیم ایسی ادھوری اور غیر مکتفی کہ اس پر عمل کرکے انسان بہت نیچے جا گرتا ہے۔وہ کسی دوسرے کو اقتدار اور عزت کیا دے سکتا ہے جو اپنی بے بسی کا خود شاکی ہے۔اوروں کی دعاؤں کو کیا سن سکتا ہے جس کی اپنی ساری رات کی گریہ و زاری اکارت گئی اور چلاّچلّا کر ایلی ایلی لما سبقتانی بھی کہا مگر شنوائی ہی نہ ہوئی اور پھر اس پر طُرّہ یہ کہ آخر یہودیوں نے پکڑ کر صلیب پر لٹکا دیا اور اپنے اعتقاد کے موافق ملعون قرار دیا۔خود عیسائیوں نے لعنتی مانا مگر یہ کہہ دیا کہ ہمارے لئے لعنتی ہوا حالانکہ لعنت ایک ایسی چیز ہے کہ انسان اس سے سیاہ باطن ہو جاتا ہے اور وہ خدا سے دور اور خدا اس سے دور ہو جاتا ہے۔گویا خدا سے اس کو کچھ تعلق ہی نہیں رہتا اس لئے ملعون شیطان کا نام بھی ہے۔اب اس لعنت کو مان کر اور مسیح کو ملعون قرار دے کر عیسائیوں کے پاس کیا رہ جاتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ’’لعنت نال ککھ نئیں رہندا۔‘‘ گلے پڑا ڈھول ہے جو یہ لوگ بجا رہے ہیں۔غرض ان لوگوں کے