ملفوظات (جلد 1) — Page 284
کے واسطے ہمارا سلسلہ ہے۔جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے کہ مصلحوں کی اور اولیاء اللہ کی اور نیک باتیں سکھانے والوں کی دنیادار مخالفت کرتے ہیں ایسا ہی ہمارے ساتھ بھی ہوا ہے اور مخالفوں نے غلط خبریں محض افترا اور جھوٹ کے ساتھ ہمارے بر خلاف مشہور کیں یہاں تک کہ ہم کو ضرر پہنچانے کے واسطے گورنمنٹ تک غلط رپورٹیں کیں کہ یہ مفسد آدمی ہیں اور بغاوت کے ارادے رکھتے ہیں اور ضرور تھا کہ یہ لوگ ایسا کرتے کیونکہ نادانوں نے اپنے خیر خواہوں یعنی انبیاء اور ان کے وارثین کے ساتھ ہمیشہ اور ہر زمانہ میں ایسا ہی سلوک کیا ہے مگر خدا تعالیٰ نے انسان میں ایک زیرکی رکھی ہے اور گورنمنٹ کے کارکن ان لوگوں کو خوب جانتے ہیں۔کپتان ڈگلس کی دانائی اور انصاف چنانچہ کپتان ڈگلس صاحب کی دانائی کی طرف خیال کرنا چاہیے کہ جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے میری نسبت کہا کہ یہ بادشاہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اشتہار اس کے سامنے پڑھا گیا تو اس نے بڑی زیرکی سے پہچانا کہ یہ سب ان لوگوں کا افترا ہے اور ہمارے مخالف کی کسی بات پر توجہ نہ کی کیونکہ اس میں شک نہیں کہ ازالہ اوہام وغیرہ دوسری کتب میں ہمارا لقب سلطان لکھا ہے مگر یہ آسمانی سلطنت کی طرف اشارہ ہے اور دنیوی بادشاہوں سے ہمارا کچھ سروکار نہیں ایسا ہی ہمارا نام حَکم عام بھی ہے۔جس کا ترجمہ اگر انگریزی میں کیا جائے تو گورنر جنرل ہوتا ہے اور شروع سے یہ سب باتیں ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی پیش گوئیوں میں موجود ہیں کہ آنے والے مسیح کے یہ نام ہیں۔یہ سب ہمارے خطاب کتابوں میں موجود ہیں اور ساتھ ہی ان کی تشریح بھی موجود ہے کہ یہ آسمانی سلطنتوں کی اصطلاحیں ہیں اور زمینی بادشاہوں سے ان کا تعلق نہیں ہے۔اگر ہم شَر کو چاہنے والے ہوتے تو ہم جہاد وغیرہ سے لوگوں کو کیوں روکتے اور درندگی سے ہم مخلوقات کو کیوں منع کرتے۔غرض کپتان ڈگلس صاحب عقل سے ان سب باتوں کو پاگیا اور پورے پورے انصاف سے کام لیا اور دونوں فریق میں سے ذرا بھی دوسرے فریق کی طرف نہیں جھکا اور ایسا نمونہ انصاف پروری اور دادرسی کا دکھلایا کہ ہم بدل خواہش مند ہیں کہ ہماری گورنمنٹ کے تمام معزز حکام ہمیشہ اسی اعلیٰ درجہ