ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 21

راہ سلوک میں مبارک قدم دو گروہ ہیں راہ سلوک میں مبارک قدم دو گروہ ہیں۔ایک دین العجائز والے جو موٹی موٹی باتوں پر قدم مارتے ہیں مثلاً احکام شریعت کے پابند ہوگئے اور نجات پاگئے۔دوسرے وہ جنہوں نے آگے قدم مارا۔ہرگز نہ تھکے اور چلتے گئے حتی کہ منزل مقصود تک پہنچ گئے لیکن نامراد وہ فرقہ ہے کہ دین العجائز سے تو قدم آگے رکھا لیکن منزل سلوک کو طے نہ کیا وہ ضرور دہریہ ہوجاتے ہیں جیسے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو نمازیں بھی پڑھتے رہے، چلہ کشیاں بھی کیں لیکن فائدہ کچھ نہ ہوا۔جیسے ایک شخص منصور مسیح نے بیان کیا کہ اس کی عیسائیت کا باعث یہی تھا کہ وہ مرشدوں کے پاس گیا چلہ کشی کرتا رہا لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا بدظن ہو کر عیسائی ہوگیا۔صدق و صبر سو جو لوگ بے صبری کرتے ہیں وہ شیطان کے قبضہ میں آجاتے ہیں۔سو متّقی کو بے صبری کے ساتھ بھی جنگ ہے۔بوستان میں ایک عابد کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب کبھی وہ عبادت کرتا تو ہاتف یہی آواز دیتا کہ تو مردود و مخذول ہے۔ایک دفعہ ایک مرید نے یہ آواز سن لی اور کہا کہ اب تو فیصلہ ہوگیا اب ٹکریں مارنے سے کیا فائدہ ہوگا؟ وہ بہت رویا اور کہا کہ میں اس جناب کو چھوڑ کر کہاں جاؤں۔اگر ملعون ہوں تو ملعون ہی سہی۔غنیمت ہے کہ مجھ کو ملعون تو کہا جاتا ہے۔ابھی یہ باتیں مرید سے ہو ہی رہی تھیں کہ آواز آئی کہ تو مقبول ہے۔سو یہ سب صدق و صبر کا نتیجہ تھا جو متقی میں ہونا شرط ہے۔استقامت یہ جو فرمایا کہ وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰) یعنی ہمارے راہ کے مجاہد راستہ پاویں گے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ اس راہ میں پیمبر کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنا ہوگا۔ایک دو گھنٹہ کے بعد بھاگ جانا مجاہد کا کام نہیں بلکہ جان دینے کے لئے طیار رہنا اس کا کام ہے سو متقی کی نشانی استقامت ہے جیسے کہ فرمایا اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا (حٰـمٓ السجدۃ:۳۱) یعنی جنہوں نے کہا کہ رب ہمارا اللہ ہے اور استقامت دکھلائی اور ہر طرف سے منہ پھیر کر اللہ کو ڈھونڈا۔مطلب یہ کہ کامیابی استقامت پرموقوف ہے اور