ملفوظات (جلد 1) — Page 20
تعریف ہو گئی تو شاید ثواب آخرت سے محرومیت ہو۔تھوڑی دیر کے بعد وہ آیا اور کہا کہ وہ روپیہ اس کی والدہ کا تھا جو دینا نہیں چاہتی چنانچہ وہ روپیہ واپس دیا گیا جس پر ہر ایک نے لعنت کی اور کہا کہ جھوٹا ہے اصل میں یہ روپیہ دینا نہیں چاہتا۔جب شام کے وقت وہ بزرگ گھر گیا تو وہ شخص ہزار روپیہ اس کے پاس لایا اور کہا کہ آپ نے سرعام میری تعریف کر کے مجھے محروم ثواب آخرت کیا اس لئے میں نے یہ بہانہ کیا۔اب یہ روپیہ آپ کا ہے لیکن آپ کسی کے آگے نام نہ لیں۔بزرگ رو پڑا اور کہا کہ اب تو قیامت تک مورد لعن طعن ہوا کیونکہ کل کا واقعہ سب کو معلوم ہے اور یہ کسی کو معلوم نہیں کہ تونے مجھے روپیہ واپس دے دیا ہے۔ایک متقی تو اپنے نفس امارہ کے برخلاف جنگ کر کے اپنے خیال کو چھپاتا ہے اور خفیہ رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس خفیہ خیال کو ہمیشہ ظاہر کردیتا ہے جیسا ایک بدمعاش کسی بدچلنی کا مرتکب ہو کر خفیہ رہنا چاہتا ہے، اسی طرح ایک متقی چھپ کر نماز پڑھتا ہے اور ڈرتا ہے کہ کوئی اس کو نہ دیکھ لے۔سچا متقی ایک قسم کا ستر چاہتا ہے۔تقویٰ کے مراتب بہت ہیں لیکن بہر حال تقویٰ کے لئے تکلّف ہے اور متقی حالت جنگ میں ہے اور صالح اس جنگ سے باہر ہے۔جیسے کہ میں نے مثال کے طور پر اوپر ریا کا ذکر کیا جس سے متقی کو آٹھوں پہر جنگ ہے۔ریا اور حلم کا جنگ بسا اوقات ریا اور حلم کا جنگ ہو جاتا ہے۔کبھی انسان کا غصہ کتاب اللہ کے برخلاف ہوتا ہے۔گالی سن کر اس کا نفس جوش مارتا ہے۔تقویٰ تو اُس کو سکھلاتا ہے کہ وہ غصہ ہونے سے باز رہے۔جیسے قرآن کہتا ہے وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا (الفرقان:۷۳) ایسا ہی بے صبری کے ساتھ اسے اکثر جنگ کرنا پڑتا ہے۔بے صبری سے مراد یہ ہے کہ اس کو راہ تقویٰ میں اس قدر دقتوں کا مقابلہ ہے کہ مشکل سے وہ منزل مقصود پر پہنچتا ہے اس لئے بے صبر ہو جاتا ہے مثلاً ایک کنواں پچاس ہاتھ تک کھودنا ہے۔اگر دو چار ہاتھ کے بعد کھودنا چھوڑ دیا جاوے تو محض یہ ایک بدظنی ہے۔اب تقویٰ کی شرط یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے احکام دیئے ان کو اخیر تک پہنچائے اور بے صبر نہ ہوجاوے۔