ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 269

کو ناراض کرنے والا فعل ہوتا ہے اور اسے توفیق نہیں ملے گی کہ وہ اس کو کچھ دے سکے لیکن اگر نرمی یا اخلاق سے پیش آوے گا اور خواہ اسے پیالہ پانی ہی کا دے دے تو وہ ازالہءِ قبض کا موجب ہوجاوے گا۔استغفار۔قبض کا علاج انسان پر قبض اور بسط کی حالت آتی ہے۔بسط کی حالت میں ذوق اور شوق بڑھ جاتا ہے اور قلب میں ایک انشراح پیدا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف توجہ بڑھتی ہے۔نمازوں میں لذّت اور سرور پیدا ہوتا ہے لیکن بعض وقت ایسی حالت بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ ذوق اور شوق جاتا رہتا ہے اور دل میں ایک تنگی کی سی حالت ہو جاتی ہے۔جب یہ صورت ہو تو اس کا علاج یہ ہے کہ کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور پھر درود شریف بہت پڑھے۔نماز بھی بار بار پڑھیں۔قبض کے دور ہونے کا یہی علاج ہے۔حقیقی علم علم سے مراد منطق یا فلسفہ نہیں ہے بلکہ حقیقی علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے عطا کرتا ہے۔یہ علم اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ ہوتا ہے اور خشیتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓـؤُا (فاطر:۲۹) اگر علم سے اللہ تعالیٰ کی خشیت میں ترقی نہیں ہوئی تو یاد رکھو کہ وہ علم ترقی معرفت کا ذریعہ نہیں ہے۔۵۶؎ ۲۰؍اپریل۱۸۹۹ء (بوقت عصر) خدا کا بھروسہ اسلام کا خاصّہ ہے کہ خدا پر بھروسہ ہوتا ہے۔مسلمان وہی ہے جو صدقات اور دعا کا قائل ہو۔عیسائیوں کو اس بات پر یقین نہیں۔کیوں؟ انہوں نے جسمانی خدا بنایا ہے۔انسان کی بڑی خوشی جو زوال پذیر نہیں ہوتی اور خطرات کے وقت اسے سنبھال لیتی ہے وہ خدا پر بھروسہ ہے۔اور یہ صرف اسلام ہی کی تعلیم ہے کہ خدا پر بھروسہ کرو۔۵۷؎