ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 265

یہ امر کہ کس جگہ تعلق ہے کشفی قوت خود ہی بتلادے گی۔جیالوجسٹ (عالمِ علم طبقات الارض) بتلا دیتے ہیں کہ یہاں فلاں دھات ہے اور وہاں فلاں کان ہے۔دیکھو! ان میں یہ ایک قوت ہوتی ہے جو فی الفور بتلا دیتی ہے۔پس یہ بات ایک سچی بات ہے کہ ارواح کا تعلق قبور سے ضرور ہوتا ہے۔یہاںتک کہ اہل کشف توجہ سے میت کے ساتھ کلام بھی کرسکتے ہیں اور اوہام اور اعتراضوں کا سلسلہ تو ایسا لمبا ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا۔۵۱؎ دعا کی برکات اگر دعا نہ ہوتی تو کوئی انسان خدا شناسی کے بارے میں حق الیقین تک نہ پہنچ سکتا۔دعا سے الہام ملتا ہے۔دعا سے ہم خدا تعالیٰ سے کلام کرتے ہیں۔جب انسان اخلاص اور توحید اور محبت اور صدق اور صفا کے قدم سے دُعا کرتا کرتا فنا کی حالت تک پہنچ جاتا ہے تب وہ زندہ خدا اس پر ظاہر ہوتا ہے جو لوگوں سے پوشیدہ ہے۔مبارک وہ جو سمجھے خدا سے صُلح کرو۔سچی پرہیزگاری سے کام لو۔آسمان اپنے غیر معمولی حوادث سے ڈرا رہا ہے۔زمین بیماریوں سے انذار کررہی ہے۔مبارک وہ جو سمجھے۔۵۲؎ ۲۶؍جنوری ۱۸۹۹ء ایڈیٹر صاحب اخبار الحکم لکھتے ہیں۔جب لِیل (دھاریوال کے پا س ایک گاؤں ہے) جہاں حضرت اقدس ؑ نے بغرض پیروی مقدمہ ضمانت برائے حفظِ امن منجانب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی، دھاریوال تشریف لے جاتے ہوئے قیام فرمایا تھا۔(مرتّب) سے روانہ ہوکر کَھنڈہ (جہاں حضرت اقدس ؑ تشریف فرماتے تھے۔(مرتّب) آ پہنچے۔تو حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں مصلحت ہے۔چونکہ سنا گیا ہے کہ محمد حسین بھی وہیں اُترنے والا تھا۔