ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 263

ہے۔تاریخی اُمور تو تاریخ ہی سے ثابت ہوں گے اور خواص الاشیاء کا تجربہ بدوں تجربۂ صحیحہ کے کیوں کر لگ سکے گا۔امورِ قیاسیہ کا پتا عقل دے گی۔اسی طرح پر متفرق طور پر الگ الگ ذرائع ہیں۔انسان دھوکا میں مبتلا ہوکر حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے سے تب ہی محروم ہوجاتا ہے جب کہ وہ ایک ہی چیز کو مختلف اُمور کی تکمیل کا ذریعہ قرار دے لیتا ہے۔مَیں اس اُصول کی صداقت پر زیادہ کہنا ضروری نہیں سمجھتا کیونکہ ذرا سے فکر سے یہ بات خوب سمجھ میں آجاتی ہے اور روز مرّہ ہم ان باتوں کی سچائی کو دیکھتے ہیں۔پس جب رُوح جسم سے مفارقت کرتا ہے یا تعلق پکڑتا ہے تو ان باتوں کا فیصلہ عقل سے نہیں ہوسکتا۔اگر ایسا ہوتا تو فلسفی اور حکماء ضلالت میں مبتلا نہ ہوتے۔رُوح کے متعلق علوم چشمۂ نبوت سے ملتے ہیں اسی طرح پر قبور کے ساتھ جو تعلق ارواح کا ہوتا ہے یہ ایک صداقت تو ہے مگر اس کا پتا دینا اس آنکھ کا کام نہیں۔یہ کشفی آنکھ کا کام ہے کہ وہ دکھلاتی ہے۔اگر محض عقل سے اس کا پتا لگانا چاہو تو کوئی عقل کا پُتلا اتنا ہی بتلائے کہ رُوح کا وجود بھی ہے یا نہیں؟ ہزار اختلاف اس مسئلہ پر موجود ہیں اور ہزار فلاسفر دہریہ مزاج موجود ہیں جو منکر ہیں۔اگر نری عقل کا یہ کام تھا تو پھر اختلاف کا کیا کام؟ کیونکہ جب آنکھ کا کام دیکھنا ہے تو مَیں نہیں کہہ سکتا کہ زید کی آنکھ تو سفید چیز کو دیکھے اور بکر کی ویسی ہی آنکھ اس سفید چیز کا ذائقہ بتلائے۔میرا مطلب یہ ہے کہ نری عقل روح کا وجود بھی یقینی طور پر نہیں بتلا سکتی چہ جائیکہ اس کی کیفیت اور تعلقات کا علم پیدا کرسکے۔فلاسفر تو روح کو ایک سبز لکڑی کی طرح مانتے ہیں اور رُوح فی الخارج ان کے نزدیک کوئی چیز ہی نہیں۔یہ تفاسیر رُوح کے وجود اور اس کے تعلق وغیرہ کی چشمۂ نبوت سے ملی ہیں اور نِرے عقل والے تو دعویٰ ہی نہیں کرسکتے۔اگر کہو کہ بعض فلاسفروں نے کچھ لکھا ہے تو یاد رکھو کہ اُنہوں نے منقولی طور پر چشمۂ نبوت سے کچھ لے کر کہا ہے۔پس جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ رُوح کے متعلق علوم چشمۂ نبوت سے ملتے ہیں تو یہ امر کہ ارواح کا قبور کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اُسی چشم سے دیکھنا چاہیے اور کشفی آنکھ نے بتلایا ہے کہ اس تودۂ خاک سے رُوح کا ایک تعلق ہوتا ہے اور