ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 262

میں آیا ہے وہ بالکل سچ اور درست ہے۔ہاں یہ دوسرا امر ہے کہ اس تعلق کی کیفیت اور کنہ کیا ہے؟ جس کے معلوم کرنے کی ہم کو ضرورت نہیں البتہ یہ ہمارا فرض ہوسکتا ہے کہ ہم یہ ثابت کر دیں کہ اس قسم کا تعلق قبور کے ساتھ ارواح کا ہوتا ہے اور اس میں کوئی محال عقلی لازم نہیں آتا۔اور اس کے لئے ہم اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت میں ایک نظیر پاتے ہیں۔درحقیقت یہ امر اسی قسم کا ہے جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض امور کی سچائی اور حقیقت صرف زبان ہی سے معلوم ہوتی ہے اور اس کو ذرا وسیع کر کے ہم یوں کہتے ہیں کہ حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقے رکھے ہیں۔بعض خواص آنکھ کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں اور بعض صداقتوں کا پتا صرف کان لگاتا ہے اور بعض ایسی ہیں کہ حس مشترک سے ان کا سراغ چلتا ہے اور کتنی ہی سچائیاں ہیں کہ وہ مرکز قوت یعنی دل سے معلوم ہوتی ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے صداقت کے معلوم کرنے کے لئے مختلف طریق اور ذریعے رکھے ہیں۔مثلاً مصری کی ایک ڈلی کو اگر کان پر رکھیں تو وہ اس کا مزہ معلوم نہ کر سکیں گے اور نہ اس کے رنگ کو بتلا سکیں گے۔ایسا ہی اگر آنکھ کے سامنے کریں گے تو وہ اس کے ذائقہ کے متعلق کچھ نہ کہہ سکے گی۔اس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے کے لئے مختلف قویٰ اور طاقتیں ہیں۔اب آنکھ کے متعلق اگر کسی چیز کا ذائقہ معلوم کرنا ہو اور وہ آنکھ کے سامنے پیش ہو تو کیا ہم یہ کہیں گے کہ اس چیز میں کوئی ذائقہ ہی نہیں یا آواز نکلتی ہو اور کان بند کر کے زبان سے وہ کام لینا چاہیں تو کب ممکن ہے۔آج کل کے فلسفی مزاج لوگوں کو یہ بڑا دھوکا لگا ہوا ہے کہ وہ اپنے عدم علم کی وجہ سے کسی صداقت کا انکار کر بیٹھتے ہیں۔روز مرہ کے کاموں میں دیکھا جاتا ہے کہ سب کام ایک شخص نہیں کرتا بلکہ جداگانہ خدمتیں مقرر ہیں۔سقّہ پانی لاتا ہے۔دھوبی کپڑے صاف کرتا ہے۔باورچی کھانا پکاتا ہے۔غرض کہ تقسیم محنت کا سلسلہ ہم انسان کے خود ساختہ نظام میں بھی پاتے ہیں۔پس اس اصل کو یاد رکھو کہ مختلف قوتوں کے مختلف کام ہیں۔انسان بڑے قویٰ لے کر آیا ہے اور طرح طرح کی خدمتیں اس کی تکمیل کے لئے ہر ایک قوت کے سپرد ہیں۔نادان فلسفی ہر بات کا فیصلہ اپنی عقلِ خاص سے چاہتا ہے حالانکہ یہ بات غلط محض