ملفوظات (جلد 1) — Page 261
بیان ہوئے ہیں کہ ان میں زیادہ بحث کی ضرورت نہیں پڑتی۔باقی امور کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں کر کھاتے تھے۔کتنے بڑے نوالے لیتے تھے۔ان جھگڑوں میں پڑنے کی مومن کو کیا ضرورت ہے؟ مدار نجات ان باتوں پر نہیں ہے۔ایسی باتیں جو اثر کے طور پر لکھی گئی ہیں۔اگر وہ نبوت حقّہ کے خلاف نہیں بلکہ مشابہ ہیں تو ایمان لائیں ورنہ تاویل کریں۔کچھ ضرورت نہیں کہ اس پر چناں اور چنیں کر کے لمبی اور فضول بحثوں میں پڑیں۔خَاتَم النّبیین کے معنی ختم نبوت کے متعلق میں پھر کہنا چاہتا ہوں کہ خاتم النّبیّین کے بڑے معنی یہی ہیں کہ نبوت کے امور کو آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر ختم کیا۔یہ تو موٹے اور ظاہر معنی ہیں۔دوسرے یہ معنی ہیں کہ کمالات نبوت کا دائرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گیا۔یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ قرآن نے ناقص باتوں کا کمال کیا اور نبوت ختم ہوگئی، اس لئے اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (المآئدۃ:۴) کا مصداق اسلام ہوگیا۔غرض یہ نشاناتِ نبوت ہیں۔ان کی کیفیّت اور کنہ پر بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اصول صاف اور روشن ہیں اور وہ ثابت شدہ صداقتیں کہلاتی ہیں۔ان باتوں میں پڑنا مومن کو ضروری نہیں ایمان لانا ضروری ہے۔اگر کوئی مخالف اعتراض کرے تو ہم اس کو روک سکتے ہیں۔اگر وہ بند نہ ہو تو ہم اس کو کہہ سکتے ہیں کہ پہلے اپنے جزئی مسائل کا ثبوت دے۔الغرض مہر نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات نبوت میں سے ایک نشان ہے جس پر ایمان لانا ہر مسلمان مومن کو ضروری ہے۔۵۰؎ ۵ ؍ جنوری ۱۸۹۹ء قبر سے روح کا تعلق (سوال مولوی قطب الدین صاحب) روح کا جو تعلق قبور سے بتلایا گیا ہے۔اس کی اصلیت کیا ہے؟ فرمایا۔اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ ارواح کے تعلق قبور کے متعلق احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم