ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 260

سعید اور شقی کا چہرہ پس میں پھر کہتا ہوں کہ میری باتوں کو استخفاف اور استہزا کی نظر سے نہ دیکھیں۔استہزا سے کفر کا اندیشہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا ادب اور خوف ہونا چاہیے۔ہر ایک عارف ان باتوں کے ہزارہا جواب دے سکتا ہے۔کیا چہروں میں ایسی علامات نہیں ہوتیں جن کو دیکھ کر ہم ایک سعید اور شقی، بدمعاش اور خوش اطوار میں تمیز کر سکتے ہیں اور پہچان لیتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت لکھا ہے کہ ایک شخص نے آپ کو دیکھ کر کہا کہ یہ جھوٹوں کا منہ نہیں۔اب وہ کونسا نشان تھا جو جھوٹوں میں ہوتا ہے اور آپ میں نہ تھا۔ایک امتیاز تو تھا جس کو بصیرت والا انسان دیکھ سکتا ہے۔ایسا اَبلہ اور اَحمق کون ہے جو نیک اور بد کو چہرہ سے دیکھ کر تمیز نہیں کر سکتا۔مومن کا چہرہ اور ہر عضو اس کو ایک امتیاز بخشتا ہے اور اس کے باخدا ہونے پر دلالت کرتا ہے۔پھر اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت میں ایک خصوصیت ہو تو بتلاؤ اس سے کیا استبعاد لازم آتا ہے۔سب کچھ ممکن ہے۔صرف امور ایمانی پر ایمان لانا ضروری ہے بالآخر یاد رکھو کہ یہ ایک فروعی بات ہے ہم کو ضرورت نہیں کہ ان باتوں میں پڑیں۔اصول پر بحث ہونی چاہیے اصول کے اثبات پر فرع خود ہی ثابت ہو جاتی ہے۔ایمان لانا ضروری ہے۔اس کی کیفیت اور کنہ تک پہنچنے کی کوشش کرنا ضروری نہیں۔دشمن اگر گفتگو کرے تو ہم اس کو روک سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات پر، ملائکہ اور اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور انبیاء علیہم السلام وغیرہ امور ایمانی پر ایمان لانا ضروری ہے اور ان سب باتوں کا ماننا اصول ہے اور باقی امور ان پر متفرع ہیں اور یہ سب صفائی کے ساتھ ثابت شدہ صداقتیں ہیں۔تعلیم اسلام ایسی صاف ہے کہ ہر قوت کو اعتدال اور عین محل پر رکھتی اور تربیت کرتی ہے اور یہ عظیم الشان معجزہ ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا۔دوسری تعلیمیں ایسی نہیں۔کسی کا ناک نہیں تو کسی کے کان نہیں ہیں۔غرض وہ ناقص اور ادھوری ہیں۔مکمل خلقت تعلیم اسلام ہی کی ہے۔توحید، صفات باری تعالیٰ، نبوت اور اخلاق فاضلہ، تکمیل نفس وغیرہ ضروری امور جن کا انسان محتاج ہے وہ ایسے کامل اور روشن طور پر