ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 259

کے لحاظ سے ایک سے زیادہ بیویاں کرے۔ایسا ہی اولاد کے نہ ہونے پر جبکہ لا ولد کے پسِ مرگ خاندان میں بہت سے ہنگامے اور کشت و خون ہونے تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ایک ضروری امر ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بیویاں کرکے اولاد پیدا کرے بلکہ ایسی صورت میں نیک اور شریف بیبیاں خود اجازت دے دیتی ہیں پس جس قدر غور کرو گے یہ مسئلہ صاف اور روشن نظر آئے گا۔عیسائی کو تو حق ہی نہیں پہنچتا کہ اس مسئلہ پر نکتہ چینی کرے کیونکہ ان کے مسلّمہ نبی اور ملہم بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بزرگوں نے سات سات سو اور تین تین سو بیبیاں کیں اور اگر وہ کہیں کہ وہ فاسق فاجر تھے تو پھر ان کو اس بات کا جواب دینا مشکل ہوگا کہ ان کے الہام خدا کے الہام کیوں کر ہو سکتے ہیں؟ عیسائیوں میں بعض فرقے ایسے بھی ہیں جو نبیوں کی شان میں ایسی گستاخیاں جائز نہیں رکھتے۔علاوہ ازیں انجیل میں صراحت سے اس مسئلہ کو بیان ہی نہیں کیا گیا۔لنڈن کی عورتوں کا زور ایک باعث ہو گیا کہ دوسری عورت نہ کریں۔پھر اس کے نتائج خود دیکھ لو کہ لنڈن اور پیرس میں عفت اور تقویٰ کی کیسی قدر ہے۔اسلام کی لڑائیاں دفاعی تھیں ایسا ہی دوسرے مسائل غلامی اور جہاد پر بھی ان کے اعتراض درست نہیں کیونکہ توریت میں ایک لمبا سلسلہ ایسی جنگوں کا چلتا ہے حالانکہ اسلام کی لڑائیاں ڈیفنسو ۴۹؎ (دفاعی) تھیں اور وہ صرف دس سال ہی کے اندر ختم ہو گئیں۔میں دعوے سے کہتا ہوں کہ یہ مسائل ان کی کتابوں میں نکال سکتا ہوں۔اور ایسا ہی میرا دعویٰ ہے کہ تمام صداقتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔اگر کوئی مدعی ایسی صداقت پیش کرے کہ وہ قرآن میں نہیں۔میں اسے نکال کر دکھانے کو تیار ہوں۔اسلامی شریعت نے وہ مسائل لئے ہیں جو طبعی اور فطرتی طور پر انسان کے لئے مطلوب ہیں اور جو ہر پہلو سے اس کے قویٰ کی تربیت کرتے ہیں۔ان پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ہاں! اسلام کے جو اعتراض غیر مذاہب پر ہیں وہ ان کا جواب نہیں دے سکتے۔