ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 257

کرتا ہے یا اپنی خدائی منوانے؟ پس اب موجودہ انجیل نے یہی نہیں کہ طریق توحید کو گم کیا بلکہ ساتھ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت اور نبوت کو اڑا دیا اور چہ جائیکہ وہ خدا یا ابن خدا بنتے ان کو نبی کے درجہ سے بھی گرا کر معاذ اللہ بہت بُرے درجہ کا آدمی بنا دیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات نے آکر ان کی تعلیم کو زندہ کیا اور خود مسیح کی اپنی ذات اور وجود کے لئے مسیحائی کی کہ اس کو مُردوں سے نکال کر اس زندگی میں داخل کیا جو اللہ تعالیٰ کے بر گزیدہ بندوں اور رسولوں کو دی جاتی ہے۔اسلام کی برتری تعلیم وہی کامل ہوسکتی ہے جو انسانی قویٰ کی پوری مربّی اور متکفّل ہو نہ یہ کہ ایک ہی پہلو پر واقع ہوئی ہو۔انجیل کی تعلیم کو دیکھو کہ وہ کیا کہتی ہے اور اس کے بالمقابل قویٰ کیا تعلیم دیتے ہیں؟ انسانی قویٰ اور فطرت خدائے تعالیٰ کی فعلی کتاب ہے۔پس اس کی قولی کتاب جو کتاب اللہ کہلاتی ہے یا اسے تعلیم الٰہی کہو اس کی ساخت اور بناوٹ کے مخالف اور متضاد کیوں کر ہوگی۔اسی طرح پر اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ آتے تو انبیاء سابقین کے اخلاق، ہدایات، معجزات اور قوت قدسیہ پر اعتراض ہوتے مگر حضور نے آکر ان سب کو پاک ٹھہرایا۔اس لئے آپ کی نبوت کے نشانات سورج سے زیادہ روشن ہیں اور بے انتہا اور بے شمار ہیں۔پس آپ کی نبوت یا نشانات نبوت پر اعتراض کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ دن چڑھا ہوا ہو اور کوئی احمق نابینا کہہ دے کہ ابھی تو رات ہی ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ دوسرے مذاہب تاریکی ہی میں رہتے اگر اب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نہ آتے۔ایمان تباہ ہو جاتا اور زمین لعنت اور عذابِ الٰہی سے تباہ ہو جاتی۔اسلام شمع کی طرح منور ہے جس نے دوسروں کو بھی تاریکی سے نکالا ہے۔توریت کو پڑھو تو بہشت اور دوزخ کا پتا ہی ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔انجیل کو دیکھو تو توحید کا نشان نہیں ملتا۔اب بتلاؤ کہ اس میں تو شک نہیں کہ یہ دونوں کتابیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے تھیں اور ہیں۔لیکن ان میں کون سی روشنی مل سکتی ہے۔سچی روشنی اور حقیقی نور جو نجات کے لئے مطلوب ہے وہ اسلام ہی میں ہے۔توحید ہی کو دیکھو کہ جہاں سے قرآن کو کھولو وہ ایک شمشیر برہنہ نظر آتا ہے کہ شرک کی جڑ کاٹ رہا ہے۔ایسا ہی نبوت کے تمام پہلو ایسے صاف اور روشن نظر آتے ہیں کہ ان سے