ملفوظات (جلد 1) — Page 248
کم دخل دیتے ہیں اور باب مُفَاعَلَہ، اِنْفِعَال، اِسْتِفْعَال وغیرہ کو اس قدر کثرت سے استعمال کرتے ہیں کہ عقل حیران ہوتی ہے۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ فہمیدن وغیرہ قدیم زمانے میں استعمال کرتے تھے۔آج کل بہت کم استعمال رہ گیا۔مولانا عبدالکریم صاحب نے عرض کی کہ ’’آج کل تو مفاہمہ، تفہیم وغیرہ ہی بولتے ہیں۔‘‘ عربی زبان کی وسعت اور اسلام کی تائید اس کے بعد اسی سلسلے میں حضرتؑ نے فرمایا کہ عربی زبان بہت وسیع ہے اور ہر ایک قسم کی اصطلاحیں اس میں موجود ہیں اور تصنیفات اس قدر کثرت سے ہو رہی ہیں کہ جن کا علم بجز خدا کے اور کسی کو نہیں ہو سکتا۔صرف حدیث ہی کو دیکھو کہ کوئی کامل طور پر دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے علم حدیث کی کل کتابوں کو دیکھا ہو۔پھر مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے علیٰ سبیل الذکر فرمایا کہ حال ہی میں مولوی صاحب (جناب مولوی نور الدین صاحب سلَّمَہٗ رَبُّہٗ مراد ہیں) کے پاس مصر سے کتب خانہ خدیویہ کی ایک فہرست سات جلدوں میں آئی ہے۔وہ فہرست ایسے طور پر مرتّب کی گئی ہے کہ اس کو پڑھ کر بھی ایک مزا آتا ہے۔ایسے ڈھنگ پر کتابوں کے نمبر دیئے ہیں کہ ایک بالکل اجنبی بھی اگر لائبریری میں چلا جاوے تو وہ بلا تکلیف عین کتاب پر ہاتھ ڈالے گا بشرطیکہ اس نے فہرست کو ایک بار دیکھا ہو۔اس پر حضرت اقدسؑ نے پوچھا کہ وہ کتابیں باہر جا سکتی ہیں؟ مولوی صاحب موصوف نے فرمایا۔ہاں۔وہ لائبریریاں ایسی نہیں۔کتابیں نقل ہو سکتیں ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔اس پر جناب امام ہمام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کی کس قدر تائید کی ہے اگر کوئی نادان اسلام کی اس تائید الٰہی کا انکار کرتا ہے تو اسے ماننا پڑے گا کہ کبھی بھی دنیا میں خدا نے کسی کی تائید نہیں کی۔زبان کا اس قدر وسیع ہونا اور