ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 240

کرے جو اس خطرہ میں مبتلا ہیں۔یہاں سے تو بہت قریب ہے۔آدمی وہاں کے حالات دریافت کرے۔ابھی تک جالندھر کے ضلع میں ترقی پر ہے۔گو ہوشیار پور کے ضلع میں کمی پر ہے۔نمازوں کو باقاعدہ التزام سے پڑھو مگر میں یقین نہیں کرتا ابھی جاڑا آتا ہے۔پس خدا تعالیٰ کی طرف پناہ لو اور نمازوں کو باقاعدہ التزام سے پڑھو۔کبھی لوگ ایک ہی وقت کی نماز پڑھ لیتے ہیں۔نمازیں معاف نہیں ہوتیں۔پیغمبروں کو بھی معاف نہیں ہوئیں۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک نئی جماعت آئی۔انہوں نے نماز کی معافی چاہی۔آپ نے فرمایا کہ جس مذہب میں عمل نہیں وہ مذہب کچھ نہیں۔اس بات کو خوب یاد رکھو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی نشان ہے کہ آسمان اور زمین اس کے امر سے قائم رہ سکتے ہیں۔کبھی کبھی لوگ جو طبیعیات کی طرف مائل ہوجاتے ہیں کہتے ہیں کہ نیچری مذہب قابل اتباع ہے۔حفظ صحت کے اسباب استعمال نہ کریں تو تقویٰ اور طہارت کا کیا فائدہ ہو گا؟ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے یہ بھی ایک نشان ہے کہ بعض وقت ادویات بے کار ہو جاتی ہیں اور حفظِ صحت کے اسباب کام نہیں آسکتے۔نہ دوا کام آسکتی ہے اور نہ طبیب لیکن اس کا امر ہو تو الٹا سیدھا ہو جاتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ابتلا دیکھو حضرت ابراہیمؑ کا ابتلا کہ بچے اور اس کی ماں کو کنعان سے دور لے جاؤ۔وہ اپنے عیال کو وہاں لے گئے جہاں اب مکہ واقع ہے۔ایسی جگہ جہاں نہ دانہ تھا نہ پانی وہاں پہنچ کر کہا کہ اے اللہ! میں اپنی ذرّیت کو ایسی جگہ چھوڑتا ہوں جہاں دانہ پانی نہیں ہے۔حضرت سارہؓ کا ارادہ تھا کہ کسی طرح سے اسماعیلؑ مَر جاوے۔انہوں نے کہا کہ اس کو ایسی جگہ چھوڑ۔ان کو یہ بات بُری معلوم ہوئی مگر خدا نے کہا کہ سارہؓ جو کہتی ہے وہی کرنا ہوگا۔اس لئے نہیں کہ سارہؓ کا پاس زیادہ تھا۔سارہؓ نے ہاجرہؓ کو اس سے پہلے بھی نکالا تھا۔فرشتہ اس وقت بھی بولا تھا۔نبیوں کے سوا بھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے۔چنانچہ ہاجرہؓ سے دو مرتبہ مکالمہ ہوا۔غرض ابراہیم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔کچھ مختصر سا پانی اور تھوڑی سی