ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 239

دائیاں مقرر کر دیں مگر میں کہتا ہوں کہ اگر ایسا نہ بھی ہوتا تو بھی اعتراض کی گنجائش نہ تھی۔ایسی صورت اور حالت میں جہاں قہر خدا نازل ہو اور ہزاروں لوگ مَریں وہ تشدّد پردہ جائز نہیں ہے۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بادشاہ کی بیوی مَر گئی اور کوئی اس کے اٹھانے والا بھی نہ رہا اب اس حالت میں پردہ کیا کر سکتا تھا۔مثل مشہور ہے ’’مَرتا کیا نہ کرتا۔‘‘ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر بچہ رحم میں ہو تو کبھی مرد اس کو نکال سکتا ہے۔ہمارے دین میں حرج نہیں ہے۔جو حرج کرتا ہے وہ اپنی نئی شریعت بناتا ہے۔گورنمنٹ نے بھی پردہ میں کوئی حرج نہیں کیا اور قواعد بھی اب بہت آسان ہوتے جاتے ہیں جو تجاویز اور اصلاحیں لوگ پیش کرتے ہیں گورنمنٹ انہیں توجہ سے سنتی اور ان پر مناسب اور مصلحت وقت کے موافق غور کرتی ہے۔کوئی مجھے یہ تو بتلاوے کہ پردہ میں نبض دکھانا کہاں منع رکھا ہے۔سعادت کی راہیں اختیار کریں بات یہ ہے کہ نیک بختی اور تقویٰ کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور سعادت کی راہیں اختیار کرنی چاہئیں۔تب ہی کچھ ہوتا ہے اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ (الرّعد:۱۲) خدا تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ خود قوم اپنی حالت کو تبدیل نہ کرے۔خواہ نخواہ کے ظن کرنے اور بات کو انتہا تک پہنچانا بالکل بے ہودہ بات ہے۔ضروری بات یہ ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔نماز پڑھیں، زکوٰۃ دیں، اتلافِ حقوق اور بدکاریوں سے باز آئیں۔یہ بات خوب طور پر ثابت ہے کہ بعض اوقات جب ایک بدی کرتا ہے تو وہ سارے شہر اور گھر کی ہلاکت کا موجب ہو جاتی ہے۔پس بدیاں چھوڑ دیں کہ وہ ہلاکت کا موجب ہیں۔جالندھر اور ہوشیارپور کے ۸۰ گاؤں مبتلا ہیں۔پھر کیوں غفلت کی جاوے۔اور گورنمنٹ پر جاہلانہ طور پر بدگمانی نہ کرو۔اگر تمہارا ہمسایہ بدگمانی کرتا ہو تو اسے سمجھا دو۔کہاں تک انسان غفلت کرے گا۔اس دن سے ڈرنا چاہیے جب ایک دفعہ ہی وبا آپڑے اور تباہ کر ڈالے۔حدیث میں آیا ہے کہ قبل از وقت دعا قبول ہوتی ہے۔خوف و خطر میں جب انسان مبتلا ہوتا ہے تو ایسے وقت میں تو ہر شخص دعا اور رجوع کر سکتا ہے۔سعادت مند وہی ہے جو امن کے وقت دعا کرے۔انسان ان لوگوں کی حالت کو معائنہ