ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 222

سچی راحت اسی میں ہے۔یہ ایک یقینی امر ہے کہ کوئی بدکاری اور گناہ کا کام ایک لحظہ کے لئے بھی سچی خوشی نہیں دے سکتا۔بدکار، بدمعاش کو تو ہر دم اظہار راز کا خطرہ لگا ہوا ہے۔پھر وہ اپنی بدعملیوں میں راحت کا سامان کہاں دیکھے گا۔آخرت پر نظر رکھنے والے ہمیشہ مبارک ہیں۔مرد آخر بیں مبارک بندہ ایست # دیکھو ان قوموں کا حال جن پر وقتاً فوقتاً عذاب آئے ہر ایک کو یہی لازم ہے کہ اگر دل سخت بھی ہو تو اسے ملامت کر کے خشوع خضوع کا سبق دے۔رونا اگر نہیں آتا تو رونی صورت بنا وے پھر خود بخود آنسو بھی نکل آئیں گے۔اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کریں ہماری جماعت کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر پاک تبدیلی کریں کیونکہ ان کو تو تازہ معرفت ملتی ہے اور اگر معرفت کا دعویٰ کرکے کوئی اس پر نہ چلے تو یہ نری لاف گزاف ہی ہے۔پس ہماری جماعت کو دوسروں کی سُستی غافل نہ کر دے اور اس کو کاہلی کی جرأت نہ دلاوے۔وہ ان کی محبت سرد دیکھ کر خود بھی دل سخت نہ کرلے۔انسان بہت آرزوئیں و تمنائیں رکھتا ہے مگر غیب کی قضاء و قدر کی کس کو خبر ہے۔زندگی آرزؤں کے موافق نہیں چلتی۔تمناؤں کا سلسلہ اور ہے۔قضاءو قدر کا سلسلہ اور ہے۔اور وہی سچا سلسلہ ہے۔خدا کے پاس انسان کے سوانح سچے ہیں۔اسے کیا معلوم ہے اس میں کیا لکھا ہے۔اس لئے دل کو جگا جگا کر غور کرنا چاہیے۔توحید کا ایک پہلو توحید کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں اپنے نفس کے اغراض کو بھی درمیان سے اٹھا دے اور اپنے وجود کو اس کی عظمت میں محو کرے۔۳۷؎