ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 221

کے ایسی عاجزی دکھائی کہ سر رکھنے کو بھی جگہ نہ ملی۔اب ظاہر پرست یہودی کیونکر مان لیتے۔پس انہوں نے بڑے زور سے انکار کیا اور اب تک کر رہے ہیں۔یہی مصیبت ہمارے زمانہ کے مولویوں اور ملاؤں کو پیش آئی۔وہ منتظر ہیں کہ مسیح اور مہدی آکر لڑائیاں کرے گا مگر خدا تعالیٰ نے یہ امر ہی ملحوظ نہ رکھا تھا اور بخاری نے یَضَعُ الْـحَرْبَ کہہ کر اس کا قضیہ ہی چکا دیا تھا پھر بھی یہ امن اور سلامتی کے خواستگار کو ماننا نہیں چاہتے۔۳۶؎ فروری ۱۸۹۸ء آخرت پر نظر رکھنے والے ہمیشہ مبارک ہیں میں دیکھتا ہوں کہ باوجود مصائب پر مصائب آنے کے اور ہر طرف خطرہ ہی خطرہ دکھائی دینے کے لوگ ابھی تک سنگدلی اور عجب و نخوت سے کام لے رہے ہیں۔نادان کب تک اس بے فکری میں بسر کریں گے تاوقتیکہ لوگ ضد نہیں چھوڑتے۔اپنی بری کرتوتوں سے باز نہیں آتے اور خدا تعالیٰ سے مصالحت نہیں کرتے، یہ بلائیں اور مصیبتیں دور نہیں ہونے کی۔میں نے دیکھا ہے اور خوب غور کیا ہے کہ قحط کے دنوں میں لوگوں نے ذرا بھی قحط کی مصیبت کو محسوس نہیں کیا۔شراب خانے اسی طرح آباد تھے اور بدکاریوں اور بدمعاشیوں کے بازار برابر گرم تھے۔ابتدا میں جب کبھی کوئی برائے نام فتویٰ مکہ مدینہ کے نام سے آجایا کرتا تھا تو لوگ ڈر جایا کرتے تھے اور مسجدیں آباد ہو جاتی تھیں مگر اِس وقت شوخی اور بیباکی حد سے بڑھ چلی ہے۔اللہ تعالیٰ ہی فضل کرے۔عقلمند وہ ہے جو عذاب آنے سے پیشتر اس کی فکر کرتا ہے اور دور اندیش وہ ہے جو مصیبت سے پہلے اس سے بچنے کی فکر کرے۔انسان کو یہی لازم ہے کہ آخرت پر نظر رکھ کر بُرے کاموں سے توبہ کرے کیونکہ حقیقی خوشی اور