ملفوظات (جلد 1) — Page 216
ترجیح ہوتی تو وہ دنیا سے فرصت پاکر یہاں آتے۔۳۱؎ یکم فروری ۱۸۹۸ء ’’آج تیسرا روز ہے۔الہام ہوا کہ یَوْمَ تَاْتِیْکَ الْغَاشِیَۃُ یَوْمَ تَنْجُوْ کُلُّ نَفْسٍ بِـمَا کَسَبَتْ یَوْمَ نَـجْزِیْ کُلَّ نَفْسٍ بِـمَا کَسَبَتْ۔یعنی ایک خوفناک غش ڈالنے والا۔انسان کو چاروں طرف سے گھیرنے والا وقت آنے والا ہے۔اس وقت ہر ایک شخص اپنے اعمال کے سبب سے نجات پائے گا۔اس وقت ہم ہر شخص کو اس کے اعمال کے موافق جزا دیں گے۔‘‘ حضرت نے ان الہامات کے بعد جماعت کو بڑی تاکید کی کہ تیاری کرو۔نمازوں میں عاجزی کرو۔تہجد کی عادت ڈالو۔تہجد میں رو رو کر دعائیں مانگو کہ خدا تعالیٰ گڑ گڑانے والوں اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کو ضائع نہیں کرتا۔ہمارے مبارک امام علیہ السلام بھی بار بار یہی وصیت فرماتے ہیں کہ جماعت متقی بن جاوے اور نمازوں میں خشوع و خضوع کی عادت کریں اور ایک روز بڑے درد سے فرمایا کہ اصلاح اور تقویٰ پیدا کریں ایسا نہ ہو کہ تم میری راہ میں روک بن جاؤ۔۳۲؎ بیرونی ممالک جانے والوں کے لئے خاص نصائح بابو محمد افضل صاحب نے ہندوستان سے مشرقی افریقہ کی طرف روانگی کے موقع پر حضرت مسیح موعودؑ سے عرض کی کہ جس مقام سے میں صدہا قسم کے شکوک و شبہات اور نفسانی ظلمتوں کا ایک امنڈا ہوا دریا ہمراہ لایا تھا اب چونکہ پھر میں نے وہیں روانہ ہونا ہے، اس لئے میرے لئے دعا کی جاوے۔حضرت اقدس نے ایسی مشکلات سے نکلنے کے لئے مندرجہ ذیل