ملفوظات (جلد 1) — Page 215
میں اس قسم کی نظیر نہیں ملتی ہے۔ہمارے لئے جو بڑی سے بڑی مشکل ہے وہ اشاعت کے لئے مالی امداد کی ضرورت ہے۔یہ تو تم یاد رکھو کہ آخر خدا تعالیٰ نے یہ ارادہ فرمایا ہے اور خود اپنے ہاتھ سے اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔وہ خود ہی اس کا حامی و ناصر ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ اپنے بندوں کو ثواب کا مستحق بنا وے اس لئے نبیوں کو مالی امداد کی ضرورت ظاہر کرنی پڑتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدد مانگی اور اسی طرز پر جو منہاجِ نبوت کی طرز ہے ہم بھی اپنے دوستوں کو سلسلہ کی ضروریات سے اطلاع دیا کرتے ہیں مگر میں پھر یہی کہوں گا کہ اگر ہم کچھ روپیہ بھی اشاعت کے لئے جمع کر لیں تو یہ تو ظاہر بات ہے کہ اس قدر نہیں کر سکتے جس قدر پادریوں کے پاس ہے اور اگر اتنا بھی کر لیں تو بھی میرا ایمان یہی ہے کہ فتح اسی کو ملتی ہے جس سے خدا خوش ہو۔اخلاق واعمال میں ترقی کریں اس لئے ضروری امر یہ ہے کہ ہم اپنے اخلاق اوراعمال میں ترقی کریں اور تقویٰ اختیار کریں تاکہ خدا تعالیٰ کی نصرت اور محبت کا فیض ہمیں ملے۔پھر خدا کی مدد کو لے کر ہمارا فرض ہے اور ہر ایک ہم سے جو کچھ کر سکتا ہے اس کو لازم ہے کہ وہ ان حملوں کے جواب دینے میں کوئی کوتاہی نہ کرے۔ہاں جواب دیتے وقت نیت یہی ہو کہ خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو۔۳۰؎ جنوری ۱۸۹۸ء مرکز میں آنے کی تلقین فرمایا۔لوگ میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر یہ تو کہہ جاتے ہیں کہ دین کو دنیا پر ترجیح دوں گا لیکن یہاں سے جاکر اس بات کو بھول جاتے ہیں۔وہ کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اگر وہ یہاں نہ آویں گے؟ دنیا نے ان کو پکڑ رکھا ہے۔اگر دین کو دنیا پر