ملفوظات (جلد 1) — Page 214
اب ہم ان اعتراضوں کا جواب بڑی آزادی سے دے سکتے ہیں۔پھر اگر ہم اللہ تعالیٰ کے اس فضل کی قدر نہ کریں تو یقیناً سمجھو کہ بڑے نا قدر شناس اور ناشکر گزار ہوں گے۔ہم کو غور اور فکر کا موقع ملا، دعاؤں کا موقع ملا اور اس طرح پر خدا تعالیٰ نے اپنے فضل کے ابواب ہم پر کھولے اگرچہ مبدءِ افیاض وہی ہے لیکن انسان اپنے میں ایک شے قابل بناتا ہے۔اس پر بلحاظ اس کی استعداد اور ظرف کے فیض ملتا ہے۔یہ خوشی کی بات ہے کہ اس تقریب کی وجہ سے ہندوستان اور پنجاب کے رہنے والے جوہر قابل بن رہے ہیں اور ان کی علمی طاقتیں بھی ترقی کر رہی ہیں۔اس زمانہ کا ہتھیار قلم ہے مختصر یہ کہ یہ مقام دارالحرب ہے پادریوں کے مقابلہ میں۔اس لئے ہم کو چاہیے کہ ہرگز بے کار نہ بیٹھیں۔مگر یاد رکھو کہ ہماری حرب ان کے ہم رنگ ہو۔جس قسم کے ہتھیار لے کر میدان میں وہ آئے ہیں اسی طرز کے ہتھیار ہم کو لے کر نکلنا چاہیے اور وہ ہتھیار ہے قلم۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سلطان القلم رکھا اور میرے قلم کو ذوالفقار علی فرمایا۔اس میں یہی سِرّ ہے کہ یہ زمانہ جنگ و جدل کا نہیں ہے بلکہ قلم کا زمانہ ہے۔فتح کے لئے تقویٰ کی ضرورت ہے پھر جب یہ بات ہے تو یاد رکھو کہ حقائق اور معارف کے دروازوں کے کھلنے کے لئے ضرورت ہے تقویٰ کی، اس لئے تقویٰ اختیار کرو کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ (النحل:۱۲۹) اور میں گن نہیں سکتا کہ یہ الہام مجھے کتنی مرتبہ ہوا ہے۔بہت ہی کثرت سے ہوا ہے۔اگر ہم نری باتیں ہی باتیں کرتے ہیں تو یاد رکھو کچھ فائدہ نہیں ہے۔فتح کے لئے ضرورت ہے تقویٰ کی۔فتح چاہتے ہو تو متّقی بنو۔اشاعتِ اسلام کے لئے مالی قربانیوں کی ضرورت ہے میں ہندوؤں اور عیسائیوں میں دیکھتا ہوں کہ عورتیں بھی بہت بڑی جائیدادیں اور روپیہ اس کام کے لئے وصیت کر جاتی ہیں۔آج کل کے مسلمانوں