ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 213

اپنے فضل وکرم سے ہماری دستگیری فرماتا ہے اور اپنی پاک کتاب کے حقائق اور معارف سے اطلاع دیتا ہے۔حکماء کہتے ہیں کہ جس قوت کو چالیس دن استعمال نہ کیا جائے وہ بے کار ہو جاتی ہے۔ہمارے ایک ماموں صاحب تھے وہ پاگل ہو گئے۔ان کی فصدلی گئی اور ان کو تاکید کی گئی کہ ہاتھ نہ ہلائیں۔انہوں نے چند مہینے تک ہاتھ نہ ہلایا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہاتھ لکڑی کی طرح ہوگیا۔غرض یہ ہے کہ جس عضو سے کام نہ لیا جائے وہ بے کار ہو جاتا ہے۔ہندوؤں میں جوگی اور ایسا ہی راہب وغیرہ جو عورتوں کے قابل نہیں رہتے اس کے دو ہی سبب ہوتے ہیں یا تو بدمعاشیوں کی کثرت کی وجہ سے یا انقطاعِ کلّی کے بعد اور اس امر کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں کہ جن اعضاء کو بے کار چھوڑا گیا وہ آخر بالکل نکمے ہوگئے۔اس وقت جو ہم پر قلم کی تلواریں چلائی جاتی ہیں اور اعتراضوں کے تیروں کی بوچھاڑ ہو رہی ہے۔ہمارا فرض ہے کہ اپنی قوتوں کو بے کار نہ کریں اور خدا کے پاک دین اور اس کے برگزیدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اثبات کے لئے اپنے قلموں کے نیزوں کو تیز کریں۔خصوصاً ایسی حالت میں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑھ کر ہم کو یہ موقع دیا کہ اس نے سلطنت انگریزی میں ہم کو پیدا کیا۔احسان کی قدر کرنا ہماری سرشت میں ہے محسن کے احسانات کی شکر گزاری کے اصول سے ناواقف جاہل ہمارے اس قسم کے بیانات اور تحریروں کو خوشامد کہتے ہیں مگر ہمارا خدا بہتر جانتا ہے کہ ہم دنیا میں کسی انسان کی خوشامد کر سکتے ہی نہیں۔یہ قوت ہی ہم میں نہیں ہے۔ہاں احسان کی قدر کرنا ہماری سرشت میں ہے اور محسن کشی اور غدّاری کا ناپاک مادہ اس نے اپنے فضل سے ہم میں نہیں رکھا۔ہم گورنمنٹ انگلشیہ کے احسانات کی قدر کرتے ہیں اور اس کو خدا کا فضل سمجھتے ہیں کہ اس نے ایک عادل گورنمنٹ کو سکھوں کے پُرجفا زمانہ سے نجات دلانے کے لئے ہم پر حکومت کرنے کو کئی ہزار کوس سے بھیج دیا۔اگر اس سلطنت کا وجود نہ ہوتا تو میں سچ کہتا ہوں کہ ہم اس قسم کے اعتراضوں کی بابت ذرا بھی سوچ نہ سکتے چہ جائیکہ ہم ان کا جواب دے سکتے۔