ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 208

کا کلام ہے اور قول فصل ہے اور وہ عین وقت پر ضرورتِ حقّہ کے ساتھ اور حق و حکمت کے ساتھ آیا ہے، بے ہودہ طور پر نہیں آیا۔اب دیکھ لو کہ قرآن شریف جس وقت نازل ہوا ہے۔کیا اس وقت نظام روحانی یہ نہیں چاہتا تھا کہ خدا کا کلام نازل ہو اور کوئی مردِ آسمانی آوے جو اس گمشدہ متاع کو واپس دلائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ بعثت کی تاریخ پڑھو تو معلوم ہو جاوے گا کہ دنیا کی کیا حالت تھی۔خدا تعالیٰ کی پرستش دنیا سے اٹھ گئی تھی اور توحید کا نقشِ پا مٹ چکا تھا۔باطل پرستی اور معبودان باطلہ کی پرستش نے اللہ جل شانہ کی جگہ لے رکھی تھی۔دنیا پر جہالت اور ظلمت کا ایک خوفناک پردہ چھایا ہوا تھا۔دنیا کے تختہ پر کوئی ملک، کوئی قطعہ، کوئی سرزمین ایسی نہ رہ گئی تھی جہاں خدائے واحد، ہاں حیّ و قیوم خدا کی پرستش ہوتی ہو۔عیسائیوں کی مُردہ پرست قوم تثلیث کے چکر میں پھنسی ہوئی تھی اور ویدوں میں توحید کا بے جا دعویٰ کرنے والے ہندوستان کے رہنے والے ۳۳ کروڑ دیوتاؤں کے پجاری تھے۔غرض خود خدا تعالیٰ نے جو نقشہ اس وقت کی حالت کا ان الفاظ میں کھینچا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ (الرّوم:۴۲) یہ بالکل سچا ہے اور اس سے بہتر انسانی زبان اور قلم اس حالت کو بیان نہیں کر سکتی۔اب دیکھو کہ جیسے خدا تعالیٰ کا قانون عام ہے کہ عین امساک بارش کے وقت آخر اس کا فضل ہوتا ہے اور باران رحمت برس کر شادابی بخشتا ہے اسی طرح پر ایسے وقت میں ضرور تھا کہ خدا کا کلام آسمان سے نازل ہوتا۔گویا اس جسمانی بارش کے نظام کو دکھا کر روحانی بارش کے نظام کی طرف رہبری کی ہے۔اب اس سے کون انکار کرے گا کہ بارش ہمارے مقاصد کے موافق ہوتی ہے۔اس سے مطلب یہ ہے کہ جیسے وہ نظام رکھا ہے اسی طرح دوسری بارشوں کے لئے وقت رکھے ہیں۔اب دیکھ لو کہ کیا یہ بارش روحانی کا ذکر نہ تھا؟ کس قدر جھگڑے تم لوگوں میں بپا تھے۔اعمال گندے اور ایمان بھی گندے تھے اور دنیا ہلاکت کے گڑھے میں گرنے والی تھی، پھر وہ کیوںکر اپنے فضل کا مینہ نہ برساتا۔جس نے جسم فانی کی حفاظت کے لئے ایک خاص نظام رکھا ہے پھر روحانی نظام کو کیوں کر چھوڑتا۔اس لئے بارش کے نظام کو بطور شاہد پیش کرکے قَسم کے رنگ میں استعمال کیا کیونکہ امرِ نبوت ایک روحانی اور نظری امر تھا اور کفار عرب اس نظام کو نہ سمجھ سکتے تھے اس لئے وہ