ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 206

موجود ہے اس کی شہادت بعض اپنے افعال مخفیہ کے سمجھانے کے لیے پیش کرے۔خدا تعالیٰ کی قَسموں میں اسرارِ معرفت غرض خدا تعالیٰ کی قَسمیں اپنے اندر لا محدود اسرار معرفت کے رکھتی ہیں جن کو اہل بصیرت ہی دیکھ سکتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ قَسم کے لباس میں اپنے قانون قدرت کے بدیہات کی شہادت اپنی شریعت کے بعض دقائق حل کرنے کے لئے پیش کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی فعلی کتاب (قانون قدرت) اس کی قولی کتاب (قرآن شریف) پر شاہد ہو جاوے اور اس کے قول اور فعل میں باہم مطابقت ہو کر طالب صادق کے لئے مزید معرفت اور سکینت اور یقین کا موجب ہو اور یہ طریق قرآن شریف میں عام ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ برہموؤں اور الہام کے منکروں پر یوں اتمام حجت کرتا ہے۔وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ (الطارق:۱۲) قَسم ہے بادلوں کی جن سے مینہ برستا ہے۔رَجْعٌ بارش کو بھی کہتے ہیں۔بارش کا بھی ایک مستقل نظام ہے جیسے نظام شمسی ہے۔رات اور دن کا اور کسوف خسوف کا بجائے خود ایک ایک نظام ہے۔مرض کا بھی ایک نظام ہوتا ہے۔طبیب اس نظام کے موافق کہہ سکتا ہے کہ فلاں دن بحران ہوگا۔غرض یہ نظام ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون قدرت اپنے اندر ایک ترتیب اور کامل نظام رکھتا ہے اور کوئی فعل اس کا ایسا نہیں ہے جو نظام اور ترتیب سے باہر ہو۔اللہ تعالیٰ جیسے یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس سے ڈریں ویسے ہی یہ بھی چاہتا ہے کہ لوگوں میں علوم کی روشنی پیدا ہووے اور اس سے وہ معرفت کی منزلوں کو طے کر جاویں کیونکہ علومِ حقّہ سے واقفیت جہاں ایک طرف سچی خشیت پیدا کرتی ہے، وہاں دوسری طرف ان علوم سے خدا پرستی پیدا ہوتی ہے۔بعض بدقسمت ایسے بھی ہیں جو علوم میں منہمک ہو کر قضاء و قدر سے دور جا پڑتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر ہی شکوک پیدا کر بیٹھتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو قضاء و قدر کے قائل ہو کر علوم ہی سے دستبردار ہوجاتے ہیں مگر قرآن شریف نے دونوں تعلیمیں دی ہیں اور کامل طور پر دی ہیں۔قرآن شریف علومِ حقّہ سے اس لئے واقف کرنا چاہتا ہے اور اس لئے ادھر انسان کو متوجہ کرتا ہے کہ اس سے خشیت الٰہی پیدا ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی معرفت میں جوں جوں ترقی ہوتی ہے اسی قدر خدا تعالیٰ کی